کراچی میں سردی کی آمد کے ساتھ دل کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی دل کے مریضوں پر دباؤ بڑھنے لگا ہے اور شہر کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں کارڈیک امراض کے کیسز میں نمایاں اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق درجہ حرارت میں کمی نے نہ صرف سابقہ مریضوں کی طبی پیچیدگیاں بڑھا دی ہیں بلکہ نئے مریضوں کی تعداد بھی معمول سے زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید اکبر سیال نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی این آئی سی وی ڈی اور ایس آئی سی وی ڈی میں مریضوں کا بوجھ 30 سے 40 فیصد تک بڑھ چکا ہے، اس موسم میں سانس کی نالیوں کے انفیکشن دل کے مریضوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ یہ انفیکشن براہِ راست دل کی کارکردگی اور دورانِ خون پر اثر ڈالتے ہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ سرد ہوا میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں دل پر دباؤ بڑھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ موسم سرما میں دل کے دورے، انجائنا اور شدید تکالیف کے کیسز میں مسلسل اضافہ سامنے آ رہا ہے۔
ڈاکٹر سیال نے یہ بھی بتایا کہ اس موسم میں دل کے مریض موسمی وائرسز اور دیگر انفیکشن کا زیادہ آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔
ماہر کارڈیالوجسٹ نے دل کے مریضوں کو سخت احتیاط برتنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سردی سے مناسب بچاؤ، گرم لباس کا استعمال اور گھر سے باہر نکلتے وقت اضافی احتیاط نہایت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو ہمیشہ کنٹرول میں رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ عوامل سرد موسم میں تیزی سے بگڑتے ہیں۔
ڈاکٹر جاوید اکبر سیال کا کہنا تھا کہ اگر کسی مریض کو نزلہ، کھانسی، بخار یا سینے میں درد کی شکایت ہو تو تاخیر کیے بغیر قریبی اسپتال سے رجوع کرنا چاہیے، کیوں کہ بروقت معائنہ اور علاج دل کے مریضوں کے لیے اس موسم میں زندگی بچانے کے مترادف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دل کے مریضوں کے ساتھ
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔