Jasarat News:
2026-07-24@03:08:39 GMT

کراچی میں سرد موسم نے خسرہ کے وار تیز کر دیے

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی میں سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی خسرہ کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور شہر کے سرکاری و نجی اسپتالوں میں روزانہ متعدد کم عمر بچے اس وبائی مرض کی علامات کے ساتھ لائے جا رہے ہیں۔ بخار، کھانسی، نزلہ، آنکھوں کی لالی اور جسم پر سرخ دانے—یہ تمام علامات اس انفیکشن کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں جس کی منتقلی نہایت تیزی سے بچوں کے درمیان ہوتی ہے۔

ماہرینِ اطفال نے والدین کو متنبہ کیا ہے کہ خسرہ کوئی معمولی مرض نہیں بلکہ ویکسین نہ لگنے کی صورت میں یہ نمونیا، دماغی سوزش، شدید دوروں (SSPE) اور بعض صورتوں میں جان لیوا پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، سردی بڑھتے ہی وائرس سرگرم ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچوں میں اس بیماری کا پھیلاؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ اطفال ڈاکٹر لیاقت علی نے بتایا کہ شہر کے مختلف اسپتالوں میں روزانہ درجنوں بچے خسرہ کی علامات کے ساتھ لائے جا رہے ہیں، اور موجودہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ والدین کو حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول پر لازمی عمل کرنا ہوگا، خسرہ کی نمایاں علامات میں نزلہ و کھانسی، تیز بخار، سرخ آنکھیں، منہ میں چھالے اور بعد ازاں چہرے سے شروع ہو کر پورے جسم پر پھیلنے والے دانے شامل ہوتے ہیں۔ یہ بیماری بالخصوص پانچ سال سے کم عمر بچوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ ای پی آئی پروگرام کے تحت خسرہ سے بچاؤ کی دو مفت ویکسین فراہم کی جاتی ہیں، پہلی نو ماہ کی عمر میں اور دوسری ڈیڑھ سال کی عمر میں، اگرچہ ویکسین لگوانے کے باوجود بھی خسرہ ہو سکتا ہے، مگر بیماری کی شدت نہ ہونے کے برابر رہتی ہے اور پیچیدگیوں کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگے، اُن میں نمونیا، دماغی سوزش اور شدید دورے ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور بعض بچے ایس ایس پی ای جیسی مستقل ذہنی معذوری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن اے کا ایک دوز خسرہ سے متاثرہ بچوں میں اموات کے خطرے کو نصف تک کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ بیمار بچے کو فوری طور پر الگ رکھنا اور بروقت طبی امداد فراہم کرنا مرض کے پھیلاؤ اور پیچیدگیوں دونوں کو کم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جاتا ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار