پاکستان میں 22 سے 26 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، اس بحران سے نمٹنے کے لیے ملک گیر مہم ملک کی سماجی اور اقتصادی تبدیلی میں اہم سنگ میل ثابت ہو رہی ہے۔

قومی استحکام کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر تعلیم کو تسلیم کرتے ہوئے وفاقی حکومت اور صوبے تعلیمی ایمرجنسی 2024 اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2025 کے تحت 2030 تک 10 ملین بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف رکھتے ہیں۔

آؤٹ آف اسکول چلڈرن فنڈ اور فیڈرل نان فارمل ایجوکیشن پالیسی 2025 کے ذریعے تعلیمی رسائی میں بڑے خلا پر توجہ دی جا رہی ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے جو اسکول سے باہر بچوں کا 52 فیصد حصہ ہیں، اور سندھ و بلوچستان میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہے۔

بینظیر تعلیمی وظیفہ پروگرام نے 2024 میں 117 ارب روپے تقسیم کیے، جس سے 14.

8 ملین بچوں کو فائدہ پہنچا، جبکہ پنجاب کا ’پی اے ایس ایس ڈی‘ پروگرام 50 اضلاع میں مشروط وظائف کو بڑھا رہا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ورلڈ بینک کا 200 ملین ڈالر کا پنجاب منصوبہ 500 اسکولوں کی تعمیر نو کررہا ہے، جس سے 40 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچے گا، جن میں 80 ہزار اسکول سے باہر بچے بھی شامل ہیں۔

ٹیکنالوجی اصلاحات بھی حکمرانی کے نظام کو بہتر کر رہی ہیں۔ سندھ کا اسٹوڈنٹ اٹینڈنس مانیٹرنگ اینڈ ریڈریس سسٹم 2026 کے وسط تک 5 ہزار اسکولوں میں نافذ کیا جائے گا، جس سے حاضری میں 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔

یونیسف، جی پی ای، ٹی ایس ایف اور ملالہ فنڈ کے ساتھ شراکت داری دور دراز علاقوں میں تعلیمی رسائی کو بڑھا رہی ہے۔

35 ہزار مدارس اور 2.5 ملین طلبہ کو مین اسٹریم میں لانا ایک جامع اصلاحاتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ وفاقی حکومت کی ایک ٹریلین روپے کی تعلیمی الاٹمنٹ تاریخی عزم کی نمائندگی کرتی ہے، جس کا مقصد پاکستان میں اوسط تعلیمی سالوں کو 4.4 سے بڑھا کر 7 سال تک پہنچانا اور سی پیک فیز ٹو کی صنعتوں کے لیے ماہر افرادی قوت تیار کرنا ہے۔

یہ مہم صرف تعلیمی اصلاحات نہیں، بلکہ پاکستان کا قومی تجدید کا وژن ہے، جہاں ہر بچہ ملک کے مستحکم اور خوشحال مستقبل میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

پاکستان 2030 تک 10 ملین اسکول سے باہر بچوں کو اسکول میں شامل کرنے کا ہدف رکھتا ہے۔

ایجوکیشن ایمرجنسی 2024 اور نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2025 تمام صوبوں کو ایک مشترکہ مشن کے تحت متحد کرتی ہیں۔ ایک مربوط قومی کوشش 22 سے 26 ملین بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے پر مرکوز ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسکول سے باہر بچے تعلیمی ایمرجنسی صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکول سے باہر بچے تعلیمی ایمرجنسی صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت وی نیوز اسکول سے باہر ملین بچوں کو کے لیے

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟