اترپردیش، سنبھل شاہی جامع مسجد کیس کی سماعت 8 جنوری کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
کورٹ کمشنر نے ایک اور سروے کی اجازت کی درخواست کی، جو 24 نومبر کو کیا گیا تھا، اس دوران بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا جسکے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ سنبھل شاہی جامع مسجد بمقابلہ ہریہر مندر کیس میں ہندو فریق کے دعوے کو خارج کرنے کے لئے دائر مقدمے پر چندوسی میں سول جج (سینئر ڈویژن) کی عدالت میں بدھ کو سماعت ہوئی، اگلی سماعت اب 8 جنوری کو ہوگی۔ شاہی جامع مسجد کی نمائندگی کرنے والے وکیل شکیل احمد وارثی نے بتایا کہ آج سول جج (سینئر ڈویژن) آدتیہ سنگھ کی عدالت میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ اگلے سال 8 جنوری مقرر کی ہے۔
ہندو فریق کی نمائندگی کرنے والے وکیل شری گوپال شرما نے بتایا کہ ہندو فریق نے 19 نومبر 2024ء کو عدالت میں دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ شاہی جامع مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے، اس لئے تمام فریقین کو مسجد جانے کی اجازت دی جائے۔ شرما کے مطابق بعد ازاں عدالت نے اسی دن مسجد کے سروے کا حکم دیا، جو اسی دن مکمل ہوگیا۔ کورٹ کمشنر نے ایک اور سروے کی اجازت کی درخواست کی، جو 24 نومبر کو کیا گیا تھا۔ اس دوران بڑے پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ شرما نے بتایا کہ مساجد مینجمنٹ کمیٹی نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور سروے رپورٹ پیش ہونے تک سماعت پر روک لگانے کی درخواست کی۔
ہائی کورٹ نے سول جج (سینیئر ڈویژن) کے سروے کے حکم کو برقرار رکھا اور درخواست کو خارج کر دیا۔ مسجد کمیٹی نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس نے اپنے فیصلے تک جمود برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ شرما نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التواء کیس کی وجہ سے سول جج آدتیہ سنگھ نے اگلی سماعت کی تاریخ 8 جنوری مقرر کی۔ سنبھل میں گزشتہ سال 24 نومبر کو شاہی جامع مسجد میں سروے کے دوران ہوئے تشدد کے معاملے میں پولیس نے ایس پی ایم پی ضیاء الرحمن برق اور شاہی جامع مسجد مینجمنٹ کمیٹی کے صدر ظفر علی اور 2750 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہی جامع مسجد سول جج
پڑھیں:
سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔
فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔