اسلام آباد کی جوڈیشل اکیڈمی میں نیشنل ای کورٹ اصلاحاتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، وزارت اطلاعات و ٹیلی کمیونی کیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے نمائندوں سمیت مختلف اعلیٰ اداروں نے شرکت کی۔

تقریب میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اب محض اختیار نہیں بلکہ عدالتی خدمات کی مؤثر اور شفاف فراہمی کے لیے بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عدالتی اصلاحات کی جانب اہم قدم، آئینی عدالت کی ملک گیر توسیع کا منصوبہ

ورکشاپ میں ہائیکورٹس کے رجسٹرارز، لا اینڈ جسٹس کمیشن، نیشنل کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن اور مختلف آئی ٹی ماہرین نے ملکی عدالتی نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

شرکا نے عدالتوں میں موجود تکنیکی ڈھانچے، جاری ڈیجیٹائزیشن اور اداروں کو درپیش رکاوٹوں کا گہرائی سے جائزہ پیش کیا۔

اعلامیے کے مطابق ورکشاپ میں قومی سطح پر مربوط ای کورٹ نظام کے قیام اور ایک مشترکہ ڈیجیٹل ماسٹر پلان کی تیاری پر گفتگو ہوئی۔ عدالتی اداروں کے درمیان تکنیکی ربط بڑھانے اور نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی کے کردار کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کی عوام دوست عدالتی اصلاحات پر پیش رفت رپورٹ جاری

اجلاس میں عدالتوں کی مختلف سطحوں پر درپیش مسائل، ان کے ممکنہ حل اور آئندہ مراحل کے لیے جامع لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا۔ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور مختلف رجسٹرارز نے عدالتی اداروں کے تکنیکی جائزوں پر مبنی تفصیلی رپورٹس بھی شیئر کیں۔

ورکشاپ میں قومی ڈیجیٹل انصاف فریم ورک کی تیاری کی منظوری دی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ عدالتی خدمات کو زیادہ شفاف، تیز اور عوام کے لیے آسان بنانے کے لیے واضح عملی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اصلاحاتی ورکشاپ جوڈیشل اصلاحات عدالتی ڈیجیٹلائزیشن نیشنل ای کورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اصلاحاتی ورکشاپ جوڈیشل اصلاحات عدالتی ڈیجیٹلائزیشن نیشنل ای کورٹ کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ