ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی، 16شوگر ملز کو عدالت سے ریلیف نہ مل سکا
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے شوگر ملز کی ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی کے خلاف 16 ملز کی درخواستیں خارج کر دی۔
ہائیکورٹ میں شوگر ملز کی ان لینڈ فریٹ سبسڈی کی عدم فراہمی کے خلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ وفاقی حکومت نے چینی کی برآمد کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔ نیب انکوائری کی بنیاد پر شوگر ملزم کو سبسڈی کا اجرا روک دیا گیا تھا۔
ٹڈاپ کے وکیل بیرسٹر اسد احمد نے موقف دیا کہ ٹڈاپ نے وزارت تجارت کی ہدایت پر سبسڈی کا اجرا روکا تھا۔ فنڈز کی موجودگی اور وزارت تجارت کی اجازت کے بعد ہی سبسڈی جاری کی جا سکتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر سبسڈی کے لیے منظور شدہ گرانٹ وقت گزرنے کے ساتھ ازخود ختم ہو چکی ہے۔ عدالت وفاقی حکومت کو سپلیمنٹری گرانٹ کا حکم نہیں دے سکتی۔ طے شدہ قانون ہے کہ سبسڈی فائدہ ہے بنیادی حق نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت گرانٹ کے لئے وفاقی حکومت کو رٹ جاری نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے 16 شوگر ملز کی سبسڈی ک درخواستیں خارج کر دیں۔ ای سی سی منظوری کے باوجود سبسڈی روکنے پر شوگر ملز نے درخواستیں دائر کی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔