شام میں روسی فوجی اڈوں کی سرگرمیاں جاری رہیں گی، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
تسنیم کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی پابندی ماسکو اور دمشق کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور یہ روابط بلا کسی محدودیت کے جاری رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی حکام نے دمشق کے ساتھ اپنی تازہ ترین دفاعی تعاون کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے شام میں اپنے فوجی اڈوں کی سرگرمیوں کے تسلسل اور ان کی خطے کے استحکام میں اہمیت پر زور دیا ہے۔ تسنیم کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی پابندی ماسکو اور دمشق کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور یہ روابط بلا کسی محدودیت کے جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا تعاون مشترکہ مفادات، شام کی دفاعی ضروریات، اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر مبنی ہے۔ روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ شام میں روس کے فوجی اڈے منصوبہ بندی کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور حالات کے کنٹرول اور بازدار توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اڈے شامی عوام کے لیے انسانی امداد کی وصولی اور اس کی ترسیل کے عمل میں بھی حصہ لے سکتے ہیں، جو ملک کی انسانی صورتحال میں بہتری کا باعث ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔