شام میں روسی فوجی اڈوں کی سرگرمیاں جاری رہیں گی، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
تسنیم کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی پابندی ماسکو اور دمشق کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور یہ روابط بلا کسی محدودیت کے جاری رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی حکام نے دمشق کے ساتھ اپنی تازہ ترین دفاعی تعاون کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے شام میں اپنے فوجی اڈوں کی سرگرمیوں کے تسلسل اور ان کی خطے کے استحکام میں اہمیت پر زور دیا ہے۔ تسنیم کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی پابندی ماسکو اور دمشق کے درمیان فوجی اور تکنیکی تعاون میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، اور یہ روابط بلا کسی محدودیت کے جاری رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا تعاون مشترکہ مفادات، شام کی دفاعی ضروریات، اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر مبنی ہے۔ روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ شام میں روس کے فوجی اڈے منصوبہ بندی کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے اور حالات کے کنٹرول اور بازدار توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ اڈے شامی عوام کے لیے انسانی امداد کی وصولی اور اس کی ترسیل کے عمل میں بھی حصہ لے سکتے ہیں، جو ملک کی انسانی صورتحال میں بہتری کا باعث ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔