Islam Times:
2026-06-03@02:04:59 GMT

اسرائیل میں ایران کا انٹیلی جنس اثرورسوخ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT

اسرائیل میں ایران کا انٹیلی جنس اثرورسوخ

اسلام ٹائمز: اب تک ایسے 33 جاسوسوں کا نام اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے جنہیں ایران کے حق میں جاسوسی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بڑی تعداد ایسے جاسوسوں کی بھی ہے جن کی گرفتاری سیکورٹی وجوہات کی بنا پر منظرعام پر نہیں لائی گئی۔ غاصب صیہونی رژیم اپنی فیس سیونگ کے لیے ہی سہی کچھ حد تک ان جاسوسوں کو منظرعام پر لانے پر مجبور ہے۔ لہذا ایسے افراد جن کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا اور خفیہ رکھا گیا ہے ان کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مزید برآں ایسے جاسوس اور جاسوسی نیٹ ورک جو مقبوضہ فلسطین میں ایران کے حق میں سرگرم ہیں، ان کی تعداد کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ اسرائیل کے سیکورٹی ماہر یوسی سلمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: "سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ اسرائیلیوں کی جانب سے چند ڈالر کے عوض قوم سے غداری کرنے پر تیار ہو جانا ہے۔" تحریر: حسین کیامنش
 
گذشتہ تقریباً دو برس کے دوران اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے انٹیلی جنس اور سیکورٹی میدان میں برتر طاقت ہونے کے طور پر اپنی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ساتھ ہی دنیا والوں کو یہ باور کروانا چاہا ہے کہ "ایران اسرائیلی ایجنٹس اور جاسوسوں سے بھرا پڑا ہے"۔ یہ دعوے خاص طور پر ایران پر اسرائیل کی بارہ روزہ فوجی جارحیت کے دوران اپنے عروج پر پہنچ چکے تھے۔ صیہونی حکمرانوں نے بارہا دعوی کیا کہ ایران پر ہمارے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ موساد سے وابستہ تخریب کار گروہ اور حتی اسرائیلی کمانڈوز بھی ایران کے اندر خفیہ کاروائیاں انجام دینے میں مصروف ہیں۔ لیکن شین بت اور اسرائیلی پولیس کی رپورٹس میں، نیز ہارٹز، ٹائمز اسرائیل، یروشلم پوسٹ اور حتی امریکی چینل سی این این اور برطانوی جریدے اکونومسٹ نے اس بارے میں جو تصویر پیش کی وہ مکمل طور پر برعکس ہے۔
 
ان ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وہ فریق جسے بڑے پیمانے پر مدمقابل کے جاسوسوں اور جاسوسی نیٹ ورکس سے سامنا ہے، ایران نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔ ان میڈیا ذرائع نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل ایران کی جاسوسی سرگرمیوں پر قابو پانے میں پوری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اس لحاظ سے شدید سیکورٹی بحران کا شکار ہے۔ اسرائیلی، امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کے اس موقف سے نہ صرف اسرائیلی حکمرانوں کے ایران کے بارے میں دعوے غلط ثابت ہو جاتے ہیں بلکہ صیہونی سماجی ڈھانچے اور اس سے زیادہ اہم یہ کہ اسرائیل کے سیکورٹی نظام کی کمزوری بھی ظاہر ہوتی ہے۔ شین بت (اسرائیل کی داخلہ انٹیلی جنس) اور اسرائیلی پولیس کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر 2023ء میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے آج تک ایران کے 45 جاسوس اسرائیل میں پکڑے گئے ہیں جن میں سے کم از کم 40 کو سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔
 
مقبوضہ فلسطین کے باسیوں کی جانب سے ایران کے حق میں جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جبکہ صیہونی حکام اس بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ 2024ء میں سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ گذشتہ برس 2023ء کے نسبت اسرائیل میں جاسوسی سرگرمیاں "400 فیصد بڑھ گئی ہیں"۔ فی الحال 2025ء کے اعدادوشمار منظرعام پر نہیں لائے گئے ہیں لیکن گذشتہ ایک سال کے دوران شین بت اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری شدہ رپورٹس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ان اعدادوشمار سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں ایران کا انٹیلی جنس اثرورسوخ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم اسے کنٹرول کرنے سے عاجز آ چکی ہے۔
 
ہارٹس، یروشلم پوسٹ، ٹائمز اسرائیل اور یدیعوت آحارنوت سمیت غاصب صیہونی رژیم کے مین اسٹریم میڈیا کا جائزہ لینے سے شین بت اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے 33 افراد کی پہچان اور اقدامات معلوم ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے جن میں فوجی افسران اور ریزرو فورس کے سپاہیوں سے لے کر فقیر تارکین وطن، بے روزگار جوان، مذہبی انتہاپسند، فلسطینی نژاد اسرائیلی شہری اور حتی مسن افراد شامل تھے۔ ایران کے لیے جاسوسی کرنے میں اصل محرک پیسہ کمانا بتایا گیا ہے اور ان میں سے اکثر افراد سوشل میڈیا گروپس کے ذریعے ایران کے انٹیلی جنس اداروں کے جال میں پھنسے تھے۔ ان جاسوسوں کا تعلق زندگی کے مختلف شعبہ جات سے ہونا نہ صرف اسرائیلی معاشرے میں پائی جانے والی دراڑوں کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ایران کی جانب سے ان کمزوریوں سے ذہانت آمیز بہرہ مندی کا بھی عکاس ہے۔
 
ذیل میں چند جاسوسوں کی تفصیلات بیان کرتے ہیں جن کا جائزہ لینے سے مزید تفصیلات حاصل ہو سکتی ہیں:
اِلیِملخ اشترن: 21 سالہ، انتہاپسند یہودی، بیت شمس (تل ابیب کے قریب) کا رہائشی، گرفتاری جولائی 2024ء،
ویلادی سیلوا ویکٹرسن: 30 سالہ، تل ابیب کے نواحی علاقوں کا رہائشی، بے روزگار، اپنی 18 سالہ بیوی کے ذریعے جاسوس بنا، گرفتاری اکتوبر 2024ء،
موتی مامان: 73 سالہ، عام شہری، اشکلون کا رہائشی، دیوالیہ ہونے والا تاجر، دو بار ایران کا خفیہ سفر کیا، گرفتاری اگست 2024ء،
عزیز نیسانوف: 32 سالہ، آذربائیجان سے نقل مکانی کر کے اسرائیل آنے والا یہودی، حیفا کا رہائشی، آذربائیجانی نژاد 7 افراد پر مشتمل ایسے گروہ کا سرغنہ جس نے گذشتہ دو برس کے دوران 600 سے زیادہ کاروائیاں انجام دی تھیں، گرفتاری ستمر 2024ء
 
اب تک ایسے 33 جاسوسوں کا نام اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے جنہیں ایران کے حق میں جاسوسی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بڑی تعداد ایسے جاسوسوں کی بھی ہے جن کی گرفتاری سیکورٹی وجوہات کی بنا پر منظرعام پر نہیں لائی گئی۔ غاصب صیہونی رژیم اپنی فیس سیونگ کے لیے ہی سہی کچھ حد تک ان جاسوسوں کو منظرعام پر لانے پر مجبور ہے۔ لہذا ایسے افراد جن کی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا اور خفیہ رکھا گیا ہے ان کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ مزید برآں ایسے جاسوس اور جاسوسی نیٹ ورک جو مقبوضہ فلسطین میں ایران کے حق میں سرگرم ہیں، ان کی تعداد کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ اسرائیل کے سیکورٹی ماہر یوسی سلمان نے اعتراف کرتے ہوئے کہا: "سب سے زیادہ پریشان کن مسئلہ اسرائیلیوں کی جانب سے چند ڈالر کے عوض قوم سے غداری کرنے پر تیار ہو جانا ہے۔"

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور اسرائیلی پولیس کی غاصب صیہونی رژیم ایران کے حق میں مقبوضہ فلسطین جن کی گرفتاری ذرائع ابلاغ ان کی تعداد ایسے جاسوس کیا گیا ہے کی جانب سے کا رہائشی میں ایران سے زیادہ کے دوران کے لیے اور اس

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان