فیس بک پوسٹ میں میئر نے لکھا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ شہر کے متعدد باشندے ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی اب بات یام میں موجود ہیں، یہ ایک ناقابلِ یقین حقیقت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عبرانی زبان کے میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تل ابیب کے نواحی شہر بات یام کے میئر نے ایک غیر معمولی بیان میں دعویٰ کیا کہ یہ شہر ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں کے اثر و رسوخ میں آ چکا ہے، اور انہوں نے اسرائیلی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔ تسنیم کے عبرانی ڈیسک کے مطابق یدیعوت آحارانوت نے لکھا کہ تل ابیب کے جنوب میں واقع شہر یات یام کے میئر زویکا بروت نے انکشاف کیا ہے کہ شہر کی آبادی میں ایک بڑی تعداد ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم وقت کے خلاف ایک دوڑ میں ہیں تاکہ یہ افراد اپنے ایرانی آقاؤں کو مزید معلومات نہ پہنچا سکیں۔ اس اسرائیلی اہلکار نے بالواسطہ اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلیوں کے درمیان پیسے کے عوض جاسوسی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے ایسے افراد کی شناخت میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے ایسے عناصر کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوراً اس سرگرمی سے باز آ جائیں۔

میئر نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ شہر کے متعدد باشندے ایرانی سیکورٹی ایجنٹوں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی اب بات یام میں موجود ہیں، یہ ایک ناقابلِ یقین حقیقت ہے، ہم مسلسل شاباک (اسرائیلی داخلی سیکیورٹی سروس) اور دیگر سیکورٹی اداروں سے رابطے میں ہیں، اور انہیں اطلاع دی ہے کہ شہر کے ایک قابلِ ذکر حصے کے رہائشی ممکنہ طور پر ایرانی انٹیلی جنس نیٹ ورک میں شامل ہو چکے ہیں، ہم نے یہ نتیجہ ان پیغامات سے اخذ کیا ہے جو یہ ایجنٹ شہر والوں کے موبائل فونز پر بھیجتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مسئلہ صرف بات یام تک محدود نہیں، بلکہ مقبوضہ علاقوں کے مختلف حصوں سے بھی اسی طرح کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، اور یہ واضح ہوا ہے کہ کچھ اسرائیلی شہری مالی فائدے کے لیے یہ خطرناک کام انجام دے رہے ہیں۔ میئر بروت نے زور دے کر کہا کہ ہمارے پاس اب پختہ شواہد ہیں کہ بات یام کے کچھ باشندے ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ یہ ایک نہایت خطرناک جرم ہے، اور جو کوئی اس سلسلے میں گرفتار ہوگا وہ اپنی زندگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا مقصد شہریوں کو اس عمل سے روکنا ہے۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر آپ، آپ کے قریبی یا دوستوں نے ان کالز یا پیغامات کا جواب دیا ہے، یا ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے، یا ان کے لیے کوئی مشن انجام دیا ہے تو ہمارے دروازے پر دستک دینے کا انتظار نہ کرو۔ شاید ابھی دیر نہیں ہوئی—آؤ خود کو پیش کرو، شاید ہم سیکورٹی اداروں کی مدد سے معاملہ حل کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق، اسرائیلی حکام ایرانی انٹیلی جنس کے وسیع نفوذ سے سخت خوف زدہ ہیں، اور جاسوسی کرنے والے افراد کی شناخت میں ناکامی کے باعث وہ شہریوں کو خود سپردگی پر مجبور کرنے کے لیے اس طرح کی مہم چلا رہے ہیں۔ بات یام کے میئر کے بقول، اسرائیلی انٹیلی جنس اور مقامی حکام اس وقت معلوماتی اور سیکیورٹی نقصان کو کم کرنے کے لیے وقت کے خلاف سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔

یدیعوت آحارانوت نے مزید اطلاع دی کہ اسی الجھن کے باعث شاباک نے حال ہی میں مقبوضہ علاقوں کے مختلف شہروں کے میئروں کے ساتھ خصوصی اجلاس کیے ہیں، اور یہ مسئلہ صرف بات یام تک محدود نہیں۔ اسرائیل ہیوم نے بھی رپورٹ کیا کہ میئر بروت نے اپنے ویڈیو پیغام کے ساتھ ہی میونسپل اسٹاف کو ہدایت دی ہے کہ شہریوں کے سوالات کے لیے ایک خصوصی واٹس ایپ لائن قائم کی جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی انٹیلی جنس رابطے میں ہیں انہوں نے بات یام کے میئر کے ساتھ رہے ہیں یام کے کے لیے کہ شہر کیا ہے کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟