پاک بحریہ کی جانب سے سری لنکا میں امدادی کارروائیاں جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
سری لنکا میں سائیکلون ’دتواہ‘ سے متاثرہ علاقوں میں پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس سیف کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوسرے روز جہاز پر تعینات Z9EC ہیلی کاپٹر نے کولمبو اور اطراف کے شدید سیلاب زدہ علاقوں میں متعدد مشنز سرانجام دیے۔
پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹر نے سری لنکن انتظامیہ کے تعاون سے ان افراد تک رسائی فراہم کی جو زیر آب علاقوں میں پھنسے ہوئے تھے اور جن تک زمینی راستوں سے پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے انہیں ضروری خوراک اور ایمرجنسی امدادی سامان پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سری لنکا میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈز، 56 افراد ہلاک
پی این ایس سیف سری لنکا میں تعیناتی کے دوران آنے والے دنوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گا تاکہ مشکل کی اس گھڑی میں سری لنکن عوام کو مسلسل تعاون اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امدادی سرگرمیاں پاک بحریہ پاکستان سری لنکا طوفان.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امدادی سرگرمیاں پاک بحریہ پاکستان سری لنکا طوفان سری لنکا میں پاک بحریہ
پڑھیں:
ہانگ کانگ میں قیامت خیز آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 128 تک پہنچ گئی، درجنوں لاپتا
ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ پر دو روز بعد قابو پالیا گیا ہے، تاہم ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 128 تک جا پہنچی ہے، جب کہ اب بھی متعدد افراد لاپتا ہیں۔
متاثرہ عمارتوں میں امدادی کارروائیاں جمعے کے روز بھی جاری رہیں، جہاں اہلخانہ اپنے پیاروں کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر لگاتے رہے۔
بدھ کی دوپہر ضلع تائی پو کے وانگ فک کورٹ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں آگ تیزی سے پھیلی اور 36 منزلہ آٹھ عمارتوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ تقریباً 40 گھنٹے بعد حکام نے آگ پر قابو پانے کا اعلان کیا۔
حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جس میں مرمتی کام کے دوران استعمال کیے گئے بانس اور پلاسٹک شیٹس کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
امدادی ٹیموں نے ملبے سے مزید لاشیں نکالیں جبکہ 50 سے زائد زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں 12 کی حالت نہایت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق آگ چند منٹوں میں ایک عمارت سے دوسری تک پھیل گئی، جس کی وجہ سے فرار کا موقع نہ مل سکا۔
یہ واقعہ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اینٹی کرپشن ادارے اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تین افراد کو حفاظتی مواد غلط طریقے سے چھوڑنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
شہریوں نے شکایت کی کہ فائر الارم نہیں بجا جس کی وجہ سے لوگوں نے دروازے کھٹکھٹا کر ایک دوسرے کو خبردار کیا۔
حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر کے امدادی فنڈ اور 9 شیلٹرز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بڑے تعمیراتی منصوبوں میں بانس کی جگہ آہنی اسٹافولڈنگ کے استعمال کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔