سری لنکا میں تباہی پھیلانے کے بعد سمندری طوفان بھارت کی طرف بڑھنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری لنکا میں تباہی مچانے کے بعد سمندری طوفان دتوا اب بھارت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ طوفان آج بھارت کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کا امکان ہے۔ تامل ناڈو کے ساحلی حصے طوفان کے اثرات سے پہلے ہی شدید بارشوں کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جس کے باعث نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے اور 50 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
اس سے قبل سری لنکا میں دتوا کے باعث ایمرجنسی نافذ ہوئی جہاں موسلادھار بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی۔ اب تک 153 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہوئیں، جبکہ شمالی اور مشرقی علاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش نے حالات مزید خراب کر دیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔