بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سیاسی تشدد میں خطرناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
بنگلہ دیش میں 13ویں عام پارلیمانی انتخابات سے قبل ملک بھر میں سیاسی تشدد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو باضابطہ طور پر ‘وی آئی پی’ شخصیت قرار دے دیا
یہ انکشاف ہیومن رائٹس سپورٹ سوسائٹی (ایچ آر ایس ایس) کی ماہانہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔
انتخابی تشدد: 2 ہلاکتیں، 262 زخمیایچ آر ایس ایس کی نومبر رپورٹ کے مطابق انتخابی سرگرمیوں کے دوران مختلف جھڑپوں میں 2 افراد ہلاک اور 262 زخمی ہوئے۔
یہ تنازعات زیادہ تر امیدواروں کی نامزدگی کے مسائل، پارٹی کے اندرونی اختلافات اور محروم امیدواروں کے حامیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا نتیجہ تھے۔
وسیع سیاسی تشدد: 12 اموات، 874 زخمیانتخابی جھڑپوں کے علاوہ ایچ آر ایس ایس نے سیاسی تشدد کے 96 واقعات ریکارڈ کیے، جن میں 12 افراد مارے گئے اور 874 زخمی ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف بی این پی کے اندرونی اختلافات سے متعلق 33 واقعات میں 10 ہلاکتیں اور 479 زخمی رپورٹ ہوئے۔
دیگر اہم جھڑپیںبی این پی اور عوامی لیگ میں 9 جھڑپوں میں 52 افراد زخمی ہوئے، بی این پی اور جماعت اسلامی میں 6 جھڑپوں میں 41 اور بی این پی اور دیگر جماعتوں میں 15 جھڑپوں میں 155 زخمی ہوئے جبکہ مختلف جماعتوں کے مابین 20 جھڑپوں میں ایک ہلاک اور 91 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش ملٹری اکیڈمی میں صدر کی کمانڈنگ پریڈ، 204 کیڈٹس نے کمیشن حاصل کیا
سیاسی ہلاکتوں میں 11 کارکن بی این پی کے تھے جبکہ ایک ہلاکت جے ایس ایس دھڑے سے تعلق رکھنے والے شخص کی تھی۔
صحافیوں پر حملےصحافیوں پر حملے اور سائبر سیکیورٹی ایکٹ کا استعمال ایچ آر ایس ایس نے صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی۔
کل 23 واقعات میں22 صحافی زخمی ہوئے،11 کو دھمکیاں ملیں،ایک صحافی گرفتار ہوا اور2 صحافیوں پر ہراسانی کے مقدمات ہوئے۔
مزید برآں سائبر سیکیورٹی ایکٹ 2025 کے تحت 7 نئے مقدمات درج کیے گئے جن میں 9 گرفتاریاں اور 27 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق ملک میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بھی تشویش ناک رہی۔ نومبر میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے 16 واقعات ہوئے جن میں 16 ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ٹولپ صدیق کو بنگلہ دیش میں کرپشن کیس میں سزائیں
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں 2 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ جیلوں میں 12 اموات ہوئیں جن میں سے 3 سزا یافتہ اور 9 زیر سماعت قیدی تھے۔
مزید برآں مختلف انسدادِ دہشتگردی و سیکیورٹی قوانین کے تحت 38 مقدمات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، عوامی لیگ کارکنوں اور دیگر افراد کے خلاف درج کیے گئے جن میں 1,166 نامزد اور 2,301 نامعلوم افراد شامل تھے۔
سیاسی گرفتاریاںنومبر میں سیاسی بنیادوں پر 1,993 گرفتاریاں ہوئیں، جن میں1,714 عوامی لیگ کارکنان اور36 بی این پی کارکنان گرفتار کیے گئے۔
ملکی سطح پر مشترکہ سیکیورٹی فورسز نے 6,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جن میں بیشتر کا تعلق عوامی لیگ اور اس کی ذیلی تنظیموں سے بتایا گیا ہے۔
خواتین، بچوں اور مزدوروں کے خلاف تشدد کے واقعاترپورٹ کے مطابق خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد کی صورتحال بھی بدستور سنگین ہے۔
خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے واقعات ہوئے،177 خواتین و بچیاں تشدد کا شکار ہوئیں، 48 ریپ کیسز ہوئے،13 اجتماعی زیادتی کے واقعات رونما ہوئے، 2 ریپ کے بعد قتل ہوئے،36 جنسی ہراسانی کے کیس سامنے آئیے، جہیز کے تنازعے پر 3 ہلاکتیں ہوئیں ، گھریلو تشدد سے 29 اموات ہوئیں اور24 خواتین کی خودکشی کے واقعات سامنے آئے۔
بچوں پر تشددرپورٹ کے مطابق کل103 بچے متاثر ہوئے جن میں 20 بچوں کی اموات ہوئیں۔
مزدوروں کے خلاف تشدد اور حادثاتتشدد اور حادثات کے نتیجے میں 4 مزدور تشدد میں ہلاک، 76 زخمی ہوئے جبکہ کام کی غیر محفوظ جگہوں پر 14 اموات ہوئیں۔
سرحدی واقعاتبنگلہ دیش بھارت سرحد پر بی ایس ایف کی کارروائیوں میں ایک بنگلہ دیشی شہری ہلاک اور 4 زخمی ہوئے۔
بنگلہ دیش میانمر سمندری سرحد
اراکان آرمی نے خلیج بنگال کے قریب 26 بنگلہ دیشی ماہی گیروں کو پکڑ لیا اور 4 ماہی گیر کشتیاں ضبط کر لیں۔
انسانی حقوق کا بڑھتا بحرانایچ آر ایس ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اعجاز الاسلام نے سیاسی کشیدگی، انتخابی تشدد، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور دوران حراست ہلاکتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو ملک میں انسانی حقوق کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے شہر کھلنا میں عدالت کے باہر فائرنگ سے 2 افراد ہلاک
اعجاز الاسلام نے حکومت، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، صحافیوں اور حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوری عمل کے تحفظ اور حقِ احتساب کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش میں سیاسی تشدد بنگلہ دیش میں سیاسی فسادات بنگلہ دیش میں سیاسی ہلاکتیں بنگلہ دیش میں ہلاکتیں ہیومن رائٹس سپورٹ سوسائٹی بنگلہ دیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش میں سیاسی تشدد بنگلہ دیش میں سیاسی فسادات ایچ ا ر ایس ایس رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں کے خلاف تشدد اموات ہوئیں جھڑپوں میں سیاسی تشدد کے واقعات میں سیاسی عوامی لیگ زخمی ہوئے بی این پی ہلاک اور تشدد کے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر