گزشتہ مہینے ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں کتنی اموات ہوئیں؟ رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان میں نومبر کے دوران عسکریت پسندانہ حملوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، تاہم شہری ہلاکتوں میں 80 فیصد کا حیران کن اضافہ ہوا۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس) کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مہینے سیکیورٹی فورسز کے جانی نقصان میں 65 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ گزشتہ ماہ ملک بھر میں ریاست مخالف تشدد اور جوابی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 292 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 164 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، حکومت کو مطلوب اہم کمانڈر سمیت 8 خوارج دہشتگرد ہلاک
رپورٹ کے مطابق سال 2025 مجموعی طور پر نہایت خونی ثابت ہوا ہے۔ جنوری سے نومبر تک ملک میں 3,144 افراد ہلاک ہوئے جن میں 1,940 عسکریت پسند، 626 سیکیورٹی اہلکار، 563 شہری اور امن کمیٹیوں کے 15 اراکین شامل تھے۔ ادارے نے 2025 کو 2015 کے بعد عسکریت پسندوں کے لیے سب سے مہلک سال قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کے اکتوبر میں 72 اہلکار شہید ہوئے تھے جبکہ نومبر میں یہ تعداد کم ہو کر 25 رہ گئی۔ دوسری جانب شہری ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، جو اکتوبر کے 30 کے مقابلے میں بڑھ کر نومبر میں 54 تک پہنچ گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ سب سے زیادہ جانی نقصان خود عسکریت پسندوں کا ہوا۔ مجموعی ہلاکتوں میں 71 فیصد یعنی 206 عسکریت پسند مارے گئے، جبکہ عسکریت پسندی کے واقعات میں حکومت نواز امن کمیٹیوں کے 7 رضا کار بھی جان سے گئے۔ زخمیوں میں 83 سیکیورٹی اہلکار، 67 شہری، 10 عسکریت پسند اور امن کمیٹیوں کے چار اراکین شامل تھے۔
نومبر کے دوران ملک میں عسکریت پسندانہ حملوں کی تعداد بھی بڑھ کر 97 رہی، جو اکتوبر میں 89 تھی۔ خیبر پختونخوا کے مرکزی اضلاع اور سابقہ فاٹا بدستور کارروائیوں اور جھڑپوں کے بڑے مراکز رہے جہاں بالترتیب 137 اور 58 عسکریت پسند ہلاک کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: افغانستان دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں، کالعدم ٹی ٹی پی کن علاقوں میں موجود ہے؟
ماہِ نومبر میں خودکش حملوں میں بھی خطرناک اضافہ نوٹ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ 4 خودکش حملے ہوئے، جب کہ اکتوبر میں صرف ایک حملہ رپورٹ ہوا تھا۔ یہ حملے اسلام آباد، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سابقہ فاٹا میں کیے گئے جن میں مجموعی طور پر 31 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 15 عسکریت پسند، 12 شہری اور 4 سیکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ خودکش حملوں میں 64 افراد زخمی بھی ہوئے۔
پی آئی سی ایس نے بتایا کہ خودکش حملوں میں سال بہ سال اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ سال 2025 کے پہلے 11 ماہ میں مجموعی طور پر 24 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ پورے 2024 میں 17 حملے رپورٹ ہوئے تھے، جو اس خطرناک رجحان میں اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عسکریت پسند حملوں میں کے مطابق
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔