یکم جنوری سے مساجد کے آئمہ کرام کو اعزازیہ ادا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یکم جنوری سے مساجد کے آئمہ کرام کو اعزازیے کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب کی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے یکم جنوری سے ادائیگی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پہلی مرتبہ یہ آرڈر دیے جائیں گے جبکہ یکم فروری سے اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب کے ذریعے ادائیگی ہوگی۔
پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کےلیے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 62 ہزار 994 آئمہ کرام کے رجسٹریشن فارم وصول ہوئے ہیں جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ اس پر وزیراعلیٰ نے آئمہ کرام کی رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
مریم نواز نے کہا کہ ملک و قوم کے مفادات کے خلاف اور اخلاقی یا مالی جرائم میں ملوث امام مسجد کا اعزازیہ بند کردیا جائے گا۔ صوبے بھر میں مسجد مینجمنٹ کمیٹیاں اور تحصیل مینجمنٹ کمیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔
اجلاس میں سیف سٹی کیمروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر سخت کاررائی کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حساس علاقوں میں مسلسل کومبنگ آپریشن جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے فورتھ شیڈول جرائم پیشہ افراد کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے ضروری اقدامات کی ہدایت کی اور غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں کے خلاف آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم بھی دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مساجد کے ا ئمہ مریم نواز نے کرنے کا کا حکم
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟