data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو حکم دیا ہے کہ شادیوں، فارم ہائوسز اور کھلی فضا میں ہونے والی تقریبات میں ون ڈش کی خلاف ورزی اور بلند آواز میوزک کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، مقررہ اوقات کار کے اندر تقریبات ختم کروانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ یہ فیصلے اگر صرف کاغذ پر نہ رہیں بلکہ عملی طور پر پورے صوبے میں سختی سے لاگو کیے جائیں تو بے شمار سماجی اور معاشرتی فوائد سامنے آ سکتے ہیں۔ اصل مسئلہ عمل درامد کا ہے، ورنہ فیصلے تو پچھلے بیس سال سے بار بار ہورہے ہیں۔ ہر حکومت یہی اعلان کرتی آئی ہے کہ شور کم کرو، رسم و رواج میں سادگی لاؤ، فضول خرچی مت کرو۔ مگر جب ضلعی انتظامیہ خود ان احکامات کو سنجیدگی سے نہ لے، تو عوام کہاں سے عمل کریں گے۔ صوبے میں یکساں سختی کے ساتھ اس پالیسی پر عمل درامد کیا جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ون ڈش پالیسی صرف فضول خرچی روکنے کے لیے نہیں، بلکہ غربت زدہ معاشرے میں سماجی دباؤ کم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک گھر پانچ ڈشیں رکھے گا تو دوسرے گھر کو بھی مجبوراً اس کی تقلید کرنا پڑتی ہے۔ یہی معاشرتی دوڑ ہمارے اندر احساسِ کمتری، مقابلہ بازی اور غیر ضروری اخراجات کو جنم دیتی ہے۔ اگر ون ڈش پالیسی مستقل مزاجی سے لاگو رہے تو یہ رواج آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گا اور لوگوں کا بوجھ کم ہوگا۔ اسی طرح لائوڈ اسپیکر اور میوزک کے بے قابو استعمال پر پابندی تو بنیادی سماجی ضرورت ہے۔ ہمارے تقاریب میں آواز کی حد نام کی کوئی چیز نہیں رہتی۔ رات دو بجے گلیاں لرز رہی ہوتی ہیں اور صبح اسکول و دفاتر جانے والے لوگ نیند پوری نہ ہونے پر اذیت میں ہوتے ہیں۔ شور صرف پریشانی نہیں، بلکہ صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ یہ پابندی صرف پنجاب تک محدود رہنے کے بجائے ایک ملک گیر اصول بننی چاہیے۔ دیگر صوبوں کو بھی اسی مستقل مزاجی کے ساتھ یہ پالیسی اپنانی چاہیے۔ یہ قدم خوش آئند ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ اگر انتظامیہ مستقل مزاجی کے ساتھ یہ اقدامات جاری رکھے، تو پنجاب میں ایک صحت مند، منظم اور نسبتاً پرسکون معاشرتی کلچر فروغ پا سکتا ہے۔ اور اگر باقی صوبے بھی یہی راستہ اختیار کر لیں تو شاید شور، فضول خرچی اور رات گئے تک چلنے والی تقریبات کا ناپسندیدہ کلچر رفتہ رفتہ ختم ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔