آج بھی ایم کیو ایم کی پالیسی یہی ہے کوٹہ سسٹم قائم رہے، حیدر عباس رضوی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر اور مرکزی رہنما نے انکشاف کیا ہے کہ آج بھی ایم کیو ایم کی پالیسی یہی ہے کہ کوٹہ سسٹم قائم رہے۔
ایکسیرپس نیوز کے پروگرام پاور کاسٹ میں بیور چیف کراچی فیصل حسین کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے حیدر عباس رضوی نے انکشاف کیا کہ 2017 میں اٹھارہویں میں اور فاروق ستار موجود تھے اور ہم نے پارٹی قیادت کو قائل بھی کرلیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے بارے میں آپ چیئرمین ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اس حوالے سے میرے پاس آئینی اور دیگر دلائل ہیں جس پر میں قائل کرسکتا ہوں۔
ایم کیو ایم رہنما نے بتایا کہ اس بات پر نہ صرف پاکستان بلکہ اُس وقت لندن قیادت کو بھی قائل کرلیا تھا۔ اس حوالے سے کچھ زمینی حقائق، نمبر اور کچھ معلومات اور کوئی مستقبل کا وژن ہوگا جب ہی تو میں نے قائل کرلیا تھا۔
حیدر عباس رضوی نے کہا کہ کوٹہ سسٹم مہاجروں کے حق میں ہے اور اس کو بالکل قائم رہنا چاہیے، میں نے تن تنہا پوری ایم کیو ایم کو قائل کرلیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حیدر عباس رضوی ایم کیو ایم کرلیا تھا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔