شہید میجر محمد اکرم نشانِ حیدر کو 54ویں یومِ شہادت پر پاک فوج کا خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
فیلڈ مارشل، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فوج کی جانب سے 1971 کی جنگ کے ہیرو، شہید میجر محمد اکرم نشانِ حیدر کو ان کے 54ویں یومِ شہادت پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے میجر محمد اکرم شہید، نشانِ حیدر کا 54واں یومِ شہادت انتہائی عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا۔
مزید پڑھیں: وزیرِ اعظم کا پائلٹ آفیسر راشد منہاس نشانِ حیدر کی 54ویں برسی پر خراجِ عقیدت
میجر محمد اکرم شہید نے 1971 میں مشرقی پاکستان کے ہلی سیکٹر میں 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی کمپنی کی قیادت کرتے ہوئے بے مثال بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔
3 دسمبر 1971 کو انہیں دشمن کے مضبوط ٹھکانوں پر حملہ کرنے کا مشن سونپا گیا، جس دوران انہوں نے دشمن کے 3 ٹینک تباہ کیے اور شدید زخمی ہونے کے باوجود بہادری کا مظاہرہ کیا۔ آخرکار، 5 دسمبر 1971 کو انہوں نے شہادت کا درجہ قبول کیا۔
میجر محمد اکرم کی قربانی آج بھی پاکستان کی مسلح افواج کے عزم اور وطن سے محبت کی علامت ہے۔ افواج پاکستان نے اس دن کو شہدا کی قربانیوں کو یاد کرنے اور ان کے شانہ بشانہ قوم کی حفاظت کے عزم کو تازہ کرنے کے لیے منایا۔
مزید پڑھیں:پاک فوج کا کیپٹن محمد سرور شہید (نشانِ حیدر) کو 77ویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میجر محمد اکرم شہید کی قربانی مادرِ وطن کے دفاع کی روشن مثال ہے اور ان کی شہادت قوم کے لیے عزم و حوصلے کا درس ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے اور مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنے والے شہدا قوم کا فخر ہیں۔
ا
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
54ویں یومِ شہادت چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر، شہید میجر محمد اکرم نشانِ حیدر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 54ویں یوم شہادت چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر شہید میجر محمد اکرم نشان حیدر میجر محمد اکرم چیف آف کے لیے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔