لائسنس بنوائیں اور ہیلمٹ خریدیں، سٹوڈنٹس کو ایک ہفتے کی مہلت مِل گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کم عمر سٹوڈنٹس کیخلاف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتاری کی ممانعت کے بعد ملتان کے سی پی او اور سی ٹی او نے طلبا کی سہولت کے لیے اُنہیں ایک ہفتے کے اندر موٹر سائیکل لائسنس بنوانے اور ہیلمٹ خریدنے کی ہدایت کردی۔
ملتان میں سی پی او صادق ڈوگر اور سی ٹی او کاشف اسلم کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی، جس میں کہا گیا کہ اسکول اور کالج کے سٹوڈنٹس کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے بچانے کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا کیلئے رِیل بنانے والا نوجوان 50 فٹ بلندی سے گر کر ہلاک
پریس کانفرنس کے دورانسی پی او صادق ڈوگر نے بتایا کہ سٹوڈنٹس کو ایک ہفتے کے اندر موٹر سائیکل لائسنس بنوانے اور ہیلمٹ خریدنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک سینٹرز میں رات تک لائسنس بنانے کا عمل جاری رکھا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت مل سکے۔
سی ٹی او کاشف اسلم نے اس موقع پر کہا کہ ٹریفک قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں، جن کے تحت خلاف ورزی پر جرمانوں اور سزاؤں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پریشانی سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کریں۔
دنیا کے محفوظ ترین ممالک کی فہرست جاری
پولیس حکام نے اس مہم کا مقصد نوجوانوں کو محفوظ سفر اور بہتر ٹریفک رویوں کی طرف راغب کرنا قرار دیا۔
دریں اثنا، پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کم عمر طلباء کے خلاف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتاری کی ممانعت کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے پر برہمی کا اظہار کیا، ساتھ ہی یہ اپیل بھی کی کہ والدین کو بھی ٹریفک قوانین کی پاسداری کروانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
وائلیشن کے عادی گروہ نے ٹریفک پولیس کے چالانوں سے بچنے کے لئے ہڑتال کی سنگین دھمکی دے دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔