حماس کے سیاسی رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ تنظیم غزہ سے اسرائیل پر مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے، تاہم غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ حماس کی ’روح چھیننے‘ کے مترادف ہوگا۔

الجزیرہ عربی کے پروگرام موازین کو دیے گئے انٹرویو میں، جسے بدھ کی شب نشر کیا جائے گا، خالد مشعل نے موجودہ سیز فائر مذاکرات، غزہ کے مستقبل اور ممکنہ حکومتی انتظامات سے متعلق حماس کے مؤقف کی وضاحت کی۔

یہ بھی پڑھیے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے قبل حماس کا اہم بیان آگیا

مشعل نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو موجودہ سیز فائر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ حماس کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کی اب تک کم از کم 738 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

غزہ پر غیر ملکی حکومت قبول نہیں، مشعل کا واضح پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے ایک متبادل’پیِس بورڈ‘(Board of Peace) کی تجویز کے تناظر میں، مشعل نے کہا کہ حماس غزہ میں کسی غیر فلسطینی حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق اس مجوزہ بورڈ کے لیے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا نام مسترد کردیا گیا ہے۔ متعدد عرب و مسلم ممالک نے ان کے کردار کی سخت مخالفت کی تھی اور حماس بھی پہلے ہی ان کی نامزدگی کو ’غیر موزوں‘ قرار دے چکی تھی۔

سیز فائر خطرے میں، ثالثوں کی تشویش

قطر، ترکی اور مصر سمیت ثالثی کرنے والے ممالک نے گزشتہ ہفتے دوحہ فورم میں خبردار کیا کہ سیز فائر ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں داخل ہو چکا ہے۔

سیز فائر کے تحت تقریباً تمام اسرائیلی یرغمالیوں اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہو چکا ہے، تاہم بہت سے فلسطینی قیدیوں کی لاشوں پر مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کے نشانات پائے گئے ہیں، جنہیں اہلِ خانہ شناخت بھی نہیں کر سکے۔

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کی پہلی شقوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، خاص طور پر رفح بارڈر کو نہ کھولنے، امداد کی کم تر رسد اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے حملوں پر شدید تحفظات موجود ہیں۔

دوسرے مرحلے کے لیے شرط: مکمل اسرائیلی انخلا

خالد مشعل نے کہا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی ضروری ہے۔
دوسرا مرحلہ جنگ کے باضابطہ خاتمے، مکمل اسرائیلی انخلا اور ’ییلو لائن‘ سے آگے ہٹنے سے مشروط ہے۔ اس وقت اسرائیل ییلو لائن کے حوالے سے غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔

حماس کا غیر مسلح ہونا؟ ‘ یہ ہماری روح چھیننے کے برابر’

اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے۔

اس پر مشعل نے دوٹوک کہا کہ اسلحہ چھوڑنا حماس کے وجود کے خاتمے کے برابر ہے۔ تاہم حماس پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ مکمل فلسطینی ریاست کے قیام پر وہ اسلحہ حوالے کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پس پردہ کہانی: حماس اسرائیل معاہدہ کیسے ممکن ہوا؟

ترک وزیر خارجہ ہکان فدان نے کہا کہ غیر مسلح کرانے کی کارروائی پہلے مرحلے میں ممکن نہیں، اس کے لیے’درست ترتیب اور حقیقت پسندی ‘ ضروری ہے۔
تاہم اسرائیل ترکی کے فوجیوں کی غزہ میں تعیناتی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

ماہرین: سیز فائر کا مستقبل غیر یقینی

دوسری طرف مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ اسرائیل کی روزانہ کی خلاف ورزیوں اور باہمی عدم اعتماد کے باعث بین الاقوامی نگرانی فورس کی فوری ضرورت ہے۔

امریکی حکام کے مطابق دوسرے مرحلے پر’شدید مذاکرات ‘ جاری ہیں اور کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل حماس خالد مشعل غزہ فلسطین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل خالد مشعل فلسطین دوسرے مرحلے خالد مشعل نے کہا کہ سیز فائر حماس کے کے لیے

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار