حماس اسرائیل پر حملے روکنے کیلیے تیار، غیر مسلح ہونے سے صاف انکار
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
حماس کے سیاسی رہنما خالد مشعل نے کہا ہے کہ تنظیم غزہ سے اسرائیل پر مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے، تاہم غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ناقابلِ قبول ہے کیونکہ یہ حماس کی ’روح چھیننے‘ کے مترادف ہوگا۔
الجزیرہ عربی کے پروگرام موازین کو دیے گئے انٹرویو میں، جسے بدھ کی شب نشر کیا جائے گا، خالد مشعل نے موجودہ سیز فائر مذاکرات، غزہ کے مستقبل اور ممکنہ حکومتی انتظامات سے متعلق حماس کے مؤقف کی وضاحت کی۔
یہ بھی پڑھیے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے قبل حماس کا اہم بیان آگیا
مشعل نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی جاری رکھتا ہے تو موجودہ سیز فائر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ حماس کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کی اب تک کم از کم 738 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
غزہ پر غیر ملکی حکومت قبول نہیں، مشعل کا واضح پیغامامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے ایک متبادل’پیِس بورڈ‘(Board of Peace) کی تجویز کے تناظر میں، مشعل نے کہا کہ حماس غزہ میں کسی غیر فلسطینی حکومت کو قبول نہیں کرے گی۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق اس مجوزہ بورڈ کے لیے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا نام مسترد کردیا گیا ہے۔ متعدد عرب و مسلم ممالک نے ان کے کردار کی سخت مخالفت کی تھی اور حماس بھی پہلے ہی ان کی نامزدگی کو ’غیر موزوں‘ قرار دے چکی تھی۔
سیز فائر خطرے میں، ثالثوں کی تشویشقطر، ترکی اور مصر سمیت ثالثی کرنے والے ممالک نے گزشتہ ہفتے دوحہ فورم میں خبردار کیا کہ سیز فائر ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں داخل ہو چکا ہے۔
سیز فائر کے تحت تقریباً تمام اسرائیلی یرغمالیوں اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ ہو چکا ہے، تاہم بہت سے فلسطینی قیدیوں کی لاشوں پر مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کے نشانات پائے گئے ہیں، جنہیں اہلِ خانہ شناخت بھی نہیں کر سکے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے معاہدے کی پہلی شقوں پر پوری طرح عمل نہیں کیا، خاص طور پر رفح بارڈر کو نہ کھولنے، امداد کی کم تر رسد اور روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے حملوں پر شدید تحفظات موجود ہیں۔
دوسرے مرحلے کے لیے شرط: مکمل اسرائیلی انخلاخالد مشعل نے کہا کہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی ضروری ہے۔
دوسرا مرحلہ جنگ کے باضابطہ خاتمے، مکمل اسرائیلی انخلا اور ’ییلو لائن‘ سے آگے ہٹنے سے مشروط ہے۔ اس وقت اسرائیل ییلو لائن کے حوالے سے غزہ کے آدھے سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔
اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جائے۔
اس پر مشعل نے دوٹوک کہا کہ اسلحہ چھوڑنا حماس کے وجود کے خاتمے کے برابر ہے۔ تاہم حماس پہلے یہ کہہ چکا ہے کہ مکمل فلسطینی ریاست کے قیام پر وہ اسلحہ حوالے کرنے پر تیار ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پس پردہ کہانی: حماس اسرائیل معاہدہ کیسے ممکن ہوا؟
ترک وزیر خارجہ ہکان فدان نے کہا کہ غیر مسلح کرانے کی کارروائی پہلے مرحلے میں ممکن نہیں، اس کے لیے’درست ترتیب اور حقیقت پسندی ‘ ضروری ہے۔
تاہم اسرائیل ترکی کے فوجیوں کی غزہ میں تعیناتی کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
دوسری طرف مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے کہا کہ اسرائیل کی روزانہ کی خلاف ورزیوں اور باہمی عدم اعتماد کے باعث بین الاقوامی نگرانی فورس کی فوری ضرورت ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دوسرے مرحلے پر’شدید مذاکرات ‘ جاری ہیں اور کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حماس خالد مشعل غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل خالد مشعل فلسطین دوسرے مرحلے خالد مشعل نے کہا کہ سیز فائر حماس کے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔