رجب بٹ اور ندیم نانی والا اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش، حفاظتی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
-- فائل فوٹو
یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز رجب بٹ اور ندیم نانی والا برطانیہ سے واپسی پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے، عدالت نے دونوں کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کراچی میں بھی مقدمہ ہے، 15 دن کی راہداری ضمانت دی جائے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ 10 دن کی حفاظتی ضمانت دے رہے ہیں، متعلقہ عدالت سے رجوع کرلیں۔
رجب بٹ آج صبح پاکستان جانے والی پرواز سے روانہ ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف گیمبلنگ ایپ کی تشہیر پر سائبر کرائم کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔
علم میں رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ روز پاکستان پہنچنے پر رجب بٹ کو ایئرپورٹ سے گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا تھا۔
برطانوی ویزے کی منسوخی کے بعد رجٹ بٹ کو برطانیہ بدر کیا گیا تھا، ندیم نانی والا بھی ان کے ہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔