اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے خاکروب اور سیوریج ورکرز سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے سرکاری محکموں کو بھرتیوں میں مذہبی تفریق کے خاتمے اور ورکرز کی حفاظت یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے فیصلے میں کہا کہ خاکروب کی آسامیوں کے اشتہارات میں "صرف مسیحی" یا "صرف کرسچن" تحریر کرنا امتیازی سلوک ہے اور اس پر مکمل پابندی عائد کی جاتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ تمام اشتہارات میں مذہب کی بنیاد پر تخصیص کے بجائے صرف "شہری" لکھا جائے۔

فیصلے میں سیوریج ورکرز کی جان کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ سیوریج ورکرز کو زہریلی گیسوں اور جان لیوا ماحول میں بغیر حفاظتی سامان کے بھیج دینا سنگین غفلت ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سیوریج ورکرز مشینی پرزے نہیں، انہیں مکمل حفاظتی سامان، تربیت اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک بھر میں سیوریج ورکرز کی ہلاکتوں میں اضافے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو جامع حفاظتی اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام متعلقہ محکمے دو ماہ کے اندر تفصیلی عمل درآمد رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرائیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیوریج ورکرز اسلام آباد

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے