یوٹیوبر رجب بٹ، ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کو بڑا ریلیف، حفاظتی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ہائیکورٹ نے گیملنگ ایپ اور سائبر کرائم کے کیسز میں ملزمان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے گیملنگ ایپ اور سائبر کرائم کے کیسز میں یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی کل تک کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں اسلام آباد ائیرپورٹ پر لینڈ کرنے پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نےگیملنگ ایپ اور سائبر کرائم کے کیسز میں ملزمان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے وکیل احد کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ان کے موکلان وطن واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔
انہیں وطن واپسی پر گرفتار نا کرنے اور ٹرائل کورٹ میں پیش ہونے کے لئے حفاظتی ضمانت دی جائے۔عدالت نے یوٹیوبر رجب بٹ اور ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کو کل اسلام آباد ائیرپورٹ لینڈ کرنے پر گرفتار نا کرنے کا حکم دیتے ہوئے دونوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حفاظتی ضمانت اسلام ا باد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔