ایمانوئل میکرون نے چینی صدر شی جن پنگ سے یوکرین جنگ ختم کرانے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
چین کے صدر شی نے کہا کہ دونوں ممالک بڑے عالمی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں بدلتے حالات میں اسٹریٹیجک خود مختاری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین یوکرین اور غزہ میں قیامِ امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے چین کے صدر شی جن پنگ پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمے، عالمی تجارت کے توازن اور ماحولیات کے مسائل پر یورپ کے ساتھ مزید مؤثر تعاون کریں۔ میکرون اپنے چوتھے سرکاری دورۂ چین پر ہیں، جہاں ان کے ساتھ فرانسیسی کاروباری شخصیات کا بڑا وفد بھی موجود ہے۔ اس دورے کا مقصد چین کے ساتھ تجارتی مواقع بڑھانے اور عالمی تنازعات میں سفارتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ میکرون نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں چین اور فرانس کے درمیان مضبوط مکالمے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے تین نکاتی ایجنڈا پیش کیا، جس میں جغرافیائی استحکام، معاشی توازن اور ماحول دوست پالیسیوں کو اہداف قرار دیا۔
دوسری جانب چین کے صدر شی نے کہا کہ دونوں ممالک بڑے عالمی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں بدلتے حالات میں اسٹریٹیجک خود مختاری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین یوکرین اور غزہ میں قیامِ امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ دورے کے دوران دونوں ممالک نے نیوکلیئر انرجی، سرمایہ کاری، بڑھتی عمر کی آبادی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور پانڈا کنزرویشن سمیت 12 معاہدوں پر دستخط کیے۔ اگرچہ فرانسیسی وفد اس دورے سے بڑے تجارتی معاہدوں کی امید رکھتا تھا، لیکن تجارتی کشیدگی، امریکی ٹیکس پالیسیوں اور یورپی یونین کے حفاظتی اقدامات کے باعث بڑے فیصلوں کے امکانات محدود نظر آرہے ہیں۔
ایئربس کی ممکنہ 500 طیاروں کی ڈیل پر بھی پیشرفت متوقع نہیں، جبکہ فرانسیسی الکوحل مصنوعات اور یورپی یونین کی مصنوعات پر چینی ڈیوٹیز بدستور برقرار رہنے کا امکان ہے۔ چین اور فرانس کے درمیان تجارتی عدم توازن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین فرانس سے سالانہ 35 ارب ڈالر اور فرانس چین سے تقریباً 45 ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔ میکرون نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک ایسے عالمی تجارتی نظام کی بنیاد رکھنی چاہیئے، جو زیادہ منصفانہ اور پائیدار ہو اور سپلائی چین کو غیر یقینی صورتحال سے محفوظ بنائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دونوں ممالک میکرون نے نے کہا کہ چین کے کے صدر
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔