خود مختار خواتین معاشرے میں خوشحالی پھیلاتی ہیں: ڈاکٹر شمشاد اختر
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ خواتین کو فیصلہ سازی میں لائیں، ہراسگی کے قوانین منظور کریں، عورتوں کو تمام شعبوں میں جگہ دیں، ملک کے ہر فرد کی مالی رسائی ہونی چاہیے، خود مختارخواتین معاشرے میں خوشحالی پھیلاتی ہیں۔
اقوامِ متحدہ اور ذیلی اداروں کی خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت اور معاشی خود مختاری بڑھانے پر اسٹیٹ بینک میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ کارپوریٹس کی پیش رفت بہتر ہے، خواتین کو سہولتیں دے کر ان کی شمولیت بڑھائی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا تھا کہ ویمن اینڈ گرلز کا مرتبہ بڑھتا ہے تو معاشرہ خوشحال ہوتا ہے، پاکستانی خاتون وزیرِ اعظم بن کر ملک کی خدمت کر چکی ہیں، میں گورنر اور وزیرِ خزانہ کے فرائض انجام دے چکی ہوں، خواتین ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی خیرسگالی سفیر اداکارہ ہانیہ عامر نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اعزاز ہے ہراسگی کے خلاف عالمی مہم کا حصہ ہوں، یو این کے لیے پاکستان میں خیرسگالی سفیر ہونا اعزاز ہے، ڈیجیٹل تشدد حقیقی تشدد ہے، مجھے بھی ڈیجیٹل ہراسگی کا سامنا رہتا ہے۔
ہانیہ عامر نے مزید کہا کہ خواتین اس تشدد سے اپنے آن لائن کاروبار ختم کر دیتی ہے، ہم خواتین انسان ہیں، ایلینز نہیں، ہمیں ہماری مرضی سے رہنے دیں، ہر فرد کی انفرادیت ہے، اسے نظر آنے دیں۔
ڈپٹی گورنراسٹیٹ بینک سلیم اللّٰہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی خودمختاری کا مسئلہ مل بیٹھ کر حل ہوگا، خوشی ہے کہ اسٹیٹ بینک عالمی اداروں کے ساتھ خواتین خودمختاری پر کام کر رہا ہے، ہماری کوششیں خواتین کو بااختیار بنا رہی ہے، ملک میں دو سال میں 35 ہزار خواتین کو بااختیار بننے کے مواقع دیے، ہماری افرادی قوت کا 18 فیصد حصہ خواتین پر مشتمل ہے، ملک کی خواتین کو بااختیار بنانا اسٹیٹ بینک کا عزم ہے۔
ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا یہ بھی کہنا تھا کہ 14 ہزار 600 خواتین چار سال میں بینکنگ صنعت کا حصہ بنی ہیں، بینک برانچوں کو ویمن چیمپئن چلا رہی ہیں، ساری کوششوں کے باوجود بہت کچھ کرنا ہے، 48 فیصد خواتین کا بینک اکاونٹ نہیں ہے، ہم خواتین کو بااختیار بنانے کا محفوظ پلیٹ فارم دینے کے لیے پُرعزم ہیں، بااختیار خواتین کے ساتھ ہی پاکستان خوشحال ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خواتین کو بااختیار ڈاکٹر شمشاد اختر اسٹیٹ بینک کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔