data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی)کے صدر محمد ریحان حنیف نے ملک بھر میں جاری گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کارگو کی مکمل بندش پاکستان کو سنگین تجارتی وصنعتی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ہڑتال کی وجہ سے درآمدی و برآمدی مال بندرگاہوں، ہائی ویز اور صنعتی علاقوں میں پھنس کررہ گیا ہے جس کے کاروبار، صنعتوں اور قومی آمدنی پر انتہائی سنگین، طویل المدتی اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ایک بیان میں صدر کے سی سی آئی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی بندش نے فیکٹریوں تک خام مال کی ترسیل اور مقامی و بین الاقوامی مارکیٹوں تک تیار مال کی روانگی کو مکمل طور پر روک دیا ہے لہٰذا یہ خدشہ ہے کہ اگر یہ تعطل مزید جاری رہا تو پاکستان کی سپلائی چین کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، برآمدی وعدوں کی بروقت تکمیل بری طرح متاثر ہوگی اور عالمی مارکیٹوں میں ملک کی ساکھ کمزور پڑ سکتی ہے۔ریحان حنیف نے کہا کہ برآمد کنندگان کو پہلے ہی آرڈرز کی منسوخی، ڈیمرج، ڈیٹینشن چارجز اور پیداواری نقصانات کا سامنا ہے جبکہ وہ صنعتیں جو مسلسل سپلائی پر انحصار کرتی ہیں بالخصوص ٹیکسٹائل، خوراک، ادویات اور ضروری اشیاء تیار کرنے والی صنعتیں پیداواری عمل بند کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی بے پناہ لاگت، کم طلب اور سرمائے کے بحران کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے لہٰذا ان حالات میں جب ہر ڈالر اہمیت حامل ہے۔ ہم مال کی نقل و حرکت کی مکمل بندش کا متحمل نہیں ہو سکتے۔انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کی نمائندہ تنظیموں سے مذاکرات کریں اور باہمی طور پر ایک قابلِ عمل اور قابلِ قبول حل نکالیںکیونکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ تجارت، صنعت اور کاروبار کی بقا کا سوال ہے اس لیے فوری اور فیصلہ کن مذاکرات ہی معاشی تباہی کو روک سکتے ہیں۔صدرکے سی سی آئی نے کہا کہ ہڑتال نے پاکستان کے درآمدی و برآمدی نظام کو مفلوج کر دیا ہے جس کی وجہ سے بندرگاہوں پر شدید رش ہوگیا ہے اور ہزاروں کنٹینرز پھنس کر رہ گئے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ ڈیڈلاک تھوڑے عرصے کے لیے بھی برقرار رہا تو مجموعی مالی نقصان اربوںتک پہنچ جائے گا جبکہ عالمی مسابقت کا مقابلہ کرنے والے پاکستانی برآمد کنندگان جو سخت ڈیلیوری شیڈول پر کام کرتے ہیں سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تجارتی نظام اعتماد، تسلسل اور بروقت ترسیل پر چلتا ہے۔ اس نوعیت کا کوئی بھی تعطل پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی خریداروں اور لاجسٹکس نیٹ ورکس کے سامنے کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔

کامرس رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد

اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم  اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔

 اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ  گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔

رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ  معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔

مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔

فٹبال ٹورنامنٹ  کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔

قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز  کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے  ورلڈ سمر  اسپیشل گیمز  تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔

 نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے  ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا