وزارتِ خارجہ کے ترجمان راندیر جیسوال نے کہا کہ ہم اب بھی امریکی فریق کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے آج میڈیا کو بتایا ہے کہ امریکی پابندیاں ایران کی چابہار بندرگاہ میں نئی دہلی کی سرگرمیوں پر لاگو نہیں ہوں گی۔ وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے نئی دہلی کو چابہار بندرگاہ میں سرگرمیوں کے لیے چھ ماہ کی پابندیوں سے استثنا (معافی) دی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے ایران کے ساتھ ایک دس سالہ معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت سرکاری کمپنی انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ نے چابہار میں 370 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا تھا۔

اس سے قبل بھی یہ اطلاع ملی تھی کہ نئی دہلی پابندیوں سے استثنا کی مدت میں توسیع حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت اس بندرگاہ کے شہید بہشتی ٹرمینل کو چلا رہا ہے، جو اس کے لیے نہایت اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ افغانستان کے لیے بھی چابہار بندرگاہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہ ملک جو خشکی سے گھرا ہوا ہے، اس بندرگاہ کے ذریعے پاکستان کی سرزمین سے گزرے بغیر عرب سمندر اور اس سے آگے کے علاقوں تک براہِ راست رسائی حاصل کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کا آج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہند و امریکہ ایک بڑے تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے شدید مذاکرات کر رہے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان راندیر جیسوال نے کہا کہ ہم اب بھی امریکی فریق کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے، اور مذاکرات جاری ہیں۔ وزارتِ خارجہ نے مزید بتایا کہ بھارت امریکی پابندیوں کے روسی تیل کمپنیوں پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چابہار بندرگاہ کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش