امریکا نے بھارت کو چابہار بندرگاہ پر 6 ماہ کی پابندیوں سے چھوٹ دیدی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
امریکا نے بھارت کو ایران کی چابہار بندرگاہ پر 6 ماہ کی پابندیوں سے چھوٹ دیدی ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو بتایا ہے کہ امریکا نے بھارت کو چابہار بندرگاہ کے ذریعے ایران میں آپریشنز کے لیے 6 ماہ کی پابندیوں سے استثنا دے دیا ہے۔
یہ بندرگاہ خلیجِ عمان کے کنارے ایرانی علاقے چابہار میں واقع ہے اور بھارت کے لیے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اسٹریٹیجک تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہے۔
امریکی پابندیاں ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر اقتصادی سرگرمیوں سے متعلق ہیں، جن کے باعث چابہار جیسے منصوبے خطرے میں پڑ سکتے تھے۔
تاہم امریکا نے بھارت کو 6 ماہ کی عارضی چھوٹ دے کر اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ چابہار کے راستے تجارت اور ترقیاتی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم امریکی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ چابہار بندرگاہ نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے کے لیے تجارتی اور رابطے کے لحاظ سے اہم منصوبہ ہے۔‘
علاقائی اہمیتچابہار بندرگاہ بھارت کو پاکستان کے راستے گزرے بغیر افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک تک براہِ راست رسائی فراہم کرتی ہے۔ یہ بندرگاہ چین کے گوادر پورٹ منصوبے کا متبادل بھی سمجھی جاتی ہے اور بھارت کی علاقائی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران بھارت چابہار بندرگاہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران بھارت چابہار بندرگاہ
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔