پاک فوج کے زیر اہتمام بنوں جانی خیل میں قبائلی جرگہ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
پاک فوج کے زیر اہتمام جانی خیل میں امن و امان کے قیام کیلئے جرگہ کا انعقاد کیا گیا۔
پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کے زیرِ انتظام جرگہ میں جانی خیل کے قبائلی عمائدین اور مشران کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ نے علاقہ میں قیام امن کیلئے قبائلی عمائدین کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تعاون سے علاقہ میں امن و ترقی کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔
جرگے میں نواحی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال، دہشتگردی کی روک تھام اور فلاحی کاموں پر بات چیت کی گئی، قبائلی رہنماؤں نے امن و امان کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔
عمائدین اور جرگہ کے شرکاء نے حکومت، انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کیساتھ بھرپور تعاون کا اعادہ کیا۔
جرگے میں اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو عوام کے تعاون سے ختم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فوج
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔