Jasarat News:
2026-07-24@05:26:47 GMT

ای چالان کے نام پر ایک نیا بھتا

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے عوام کی مشکلات اور پریشانیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ سونے کا انڈا دینے والی اس مرغی کو سندھ اور وفاقی حکومت نوچ نوچ کر کھا رہی ہیں لیکن ان کا جی نہیں بھر رہا ہے۔ ای چالان کے نام پر ایک ایسا نیا ٹیکس کراچی کے شہریوں پر مسلط کردیا گیا ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ایک جانب شہر کراچی جو وفاق اور سندھ کو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ شہر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ کراچی کے نوجوانوں پر پہلے ہی روزگار کے دروازے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں اور کراچی کے ڈومیسائل پر وڈیروں جاگیرداروں کے رشتہ دار بھرتی ہورہے ہیں۔ سندھ سیکرٹریٹ میں پرانے ملازمین ریٹائر ہورہے ہیں اور نئی بھرتی صرف اندرون سندھ کے لوگوں کی ہی کی جارہی ہے۔ 2030 میں سندھ سیکرٹریٹ میں ایک بھی کراچی والا نہیں ہوگا۔ کراچی کے نوجوان فوڈ پانڈا اور چنگ چی رکشا ہی چلاتے رہے گے۔ کراچی کے نوجوان جو اپنے مستقبل سے مکمل طور پر مایوس ہوچکے ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت اپنے بہتر مستقبل کے لیے اب بیرون ممالک جانے پر مجبور ہوگئی ہے اور روزآنہ پندرہ ہزار کے قریب نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ سندھ حکومت ایک جانب کراچی کے عوام کو کسی بھی قسم کی سہولت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اس شہر میں بجلی ہے نہ گیس ہے، نہ ٹرانسپورٹ، نہ سڑکیں، نہ سیوریج کا کوئی نظام۔ اب ایک نیا ظلم اور ستم ای چالان کے نام پر کراچی کے عوام پر ڈھایا جارہا ہے۔

کراچی میں ایک جانب سڑکیں تباہی وبربادی کا شکار ہیں اور پورا شہر موہن جودڑو کا منظر پیش کررہا ہے۔ ہیوی ٹریفک، ٹرالے، کوچز، ٹینکرز بدمست ہاتھی کی طرح عوام کو اپنے ٹائروں کے نیچے کچل رہے ہیں۔ ہیوی ٹریفک کی نہ کوئی فٹنس چیک کرتا ہے اور نہ ان کے ڈرائیوروں کے لائسنس۔ حکومت کو صرف اور صرف کراچی کے شہریوں کو اذیت اور پریشان کرنے کا کوئی موقع چاہیے۔ سندھ حکومت دبئی، سنگاہ پور، لندن، امریکا کے ٹریفک نظام کی بات کررہی ہے۔ حکومت کو اگر ان ملکوں کا ٹریفک نظام نافذ کرنا ہے تو پہلے وہ یہاں کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے لیکن حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کراچی کے لوگوں کو کوئی سہولت فراہم نہیں کرے گی۔ کراچی کے عوام ٹریفک جام ہونے سے ذہنی مریض ہوچکی ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہورہا ہے اور اس منصوبے کو مکمل ہونے میں مزید ڈیڑھ دو سال لگنے کے امکانات ہیں۔ ایسے میں کراچی کے منتخب ہونے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نے بے حسی کی چادر اوڑھ لی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر لاوارث ہوچکا ہے اور کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہے۔ ای چالان نے شہر میں ایک قیامت مچادی ہے۔ کراچی میں 27 اکتوبر سے لگنے والے نئے کیمروں کے بعد صرف 6 گھنٹوں میں ڈیڑھ کروڑ روپے کے چالان کیے گئے اور پولیس اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام اصلاح نہیں، عوام سے رقم بٹورنے کا نیا ذریعہ بن گیا ہے۔ غریب شہری کی 30 ہزار کی موٹر سائیکل پر 25 ہزار کا جرمانہ لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

یہ قانون نہیں، بلکہ کھلا بھتا ہے جسے جدید ٹیکنالوجی کے نام پر عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال چالیس ہزار ٹریفک پولیس اہلکار اندرونِ سندھ سے بھرتی کیے گئے تھے لیکن ان اہلکاروں سے ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں چالان کے نام پر بھتا خوری اور رشوت خوری پر لگا دیا گیا۔ پہلے اجرک پلیٹ کے نام پر کراچی والوں کو لوٹا گیا اور اب ای چالان کے نام پر بھتا خوری کا ایک نیا قانون شہر میں مسلط کیا جارہا ہے۔ ایک جانب سندھ میں گھوٹکی سے لیکر حیدرآباد تک بغیر نمبر پلیٹ کے موٹر سائیکل ودیگر گاڑیاں کھلے عام دھڑلے کے ساتھ چل رہی ہیں اور کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہیں دوسری جانب کراچی کے مظلوم شہریوں پر ای چالان کے نام پرایک ایسا قانون اور ٹیکس کا نظام نافذ کردیا گیا ہے کہ کراچی والے دھائی دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کراچی کی تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں اور اس ظالمانہ چالان کو عدالت میں چیلنج کر کے اسے منسوخ کرایا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کراچی پر یہ ظلم نہ کرے اور ای چالان کے نام پر بھاری جرمانوں میں کمی کی جائے اور پورے ای چالان نظام کو شفاف طریقے سے چلایا جائے۔ اتنے زیادہ اور بھاری چالان عوام برداشت نہیں کرسکتے اور اس ظلم کے نتیجے میں نفرت کی سیاست پروان چڑھے گی اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پھر شہر میں امن وامان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کراچی پر رحم کرے ان کے صبر کو نہ آزمائے۔ کراچی کے شہریوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا نہ دی جائے اور مشرقی پاکستان والے حالات یہاں پیدا نہ کیے جائیں ورنہ کراچی کے عوام اگر اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر حکمرانوں کو جائے پناہ تک نہیں ملے گی۔

 

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چالان کے نام پر کراچی کے عوام ایک جانب حکومت کو ہیں اور ہے اور

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن