Jasarat News:
2026-06-03@04:43:40 GMT

ای چالان کے نام پر ایک نیا بھتا

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی کے عوام کی مشکلات اور پریشانیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ سونے کا انڈا دینے والی اس مرغی کو سندھ اور وفاقی حکومت نوچ نوچ کر کھا رہی ہیں لیکن ان کا جی نہیں بھر رہا ہے۔ ای چالان کے نام پر ایک ایسا نیا ٹیکس کراچی کے شہریوں پر مسلط کردیا گیا ہے جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ ایک جانب شہر کراچی جو وفاق اور سندھ کو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ شہر بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ کراچی کے نوجوانوں پر پہلے ہی روزگار کے دروازے مکمل طور پر بند ہوچکے ہیں اور کراچی کے ڈومیسائل پر وڈیروں جاگیرداروں کے رشتہ دار بھرتی ہورہے ہیں۔ سندھ سیکرٹریٹ میں پرانے ملازمین ریٹائر ہورہے ہیں اور نئی بھرتی صرف اندرون سندھ کے لوگوں کی ہی کی جارہی ہے۔ 2030 میں سندھ سیکرٹریٹ میں ایک بھی کراچی والا نہیں ہوگا۔ کراچی کے نوجوان فوڈ پانڈا اور چنگ چی رکشا ہی چلاتے رہے گے۔ کراچی کے نوجوان جو اپنے مستقبل سے مکمل طور پر مایوس ہوچکے ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت اپنے بہتر مستقبل کے لیے اب بیرون ممالک جانے پر مجبور ہوگئی ہے اور روزآنہ پندرہ ہزار کے قریب نوجوان ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ سندھ حکومت ایک جانب کراچی کے عوام کو کسی بھی قسم کی سہولت دینے کو تیار نہیں ہے۔ اس شہر میں بجلی ہے نہ گیس ہے، نہ ٹرانسپورٹ، نہ سڑکیں، نہ سیوریج کا کوئی نظام۔ اب ایک نیا ظلم اور ستم ای چالان کے نام پر کراچی کے عوام پر ڈھایا جارہا ہے۔

کراچی میں ایک جانب سڑکیں تباہی وبربادی کا شکار ہیں اور پورا شہر موہن جودڑو کا منظر پیش کررہا ہے۔ ہیوی ٹریفک، ٹرالے، کوچز، ٹینکرز بدمست ہاتھی کی طرح عوام کو اپنے ٹائروں کے نیچے کچل رہے ہیں۔ ہیوی ٹریفک کی نہ کوئی فٹنس چیک کرتا ہے اور نہ ان کے ڈرائیوروں کے لائسنس۔ حکومت کو صرف اور صرف کراچی کے شہریوں کو اذیت اور پریشان کرنے کا کوئی موقع چاہیے۔ سندھ حکومت دبئی، سنگاہ پور، لندن، امریکا کے ٹریفک نظام کی بات کررہی ہے۔ حکومت کو اگر ان ملکوں کا ٹریفک نظام نافذ کرنا ہے تو پہلے وہ یہاں کی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے لیکن حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ کراچی کے لوگوں کو کوئی سہولت فراہم نہیں کرے گی۔ کراچی کے عوام ٹریفک جام ہونے سے ذہنی مریض ہوچکی ہے۔ ریڈ لائن منصوبہ تین سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہورہا ہے اور اس منصوبے کو مکمل ہونے میں مزید ڈیڑھ دو سال لگنے کے امکانات ہیں۔ ایسے میں کراچی کے منتخب ہونے والے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی نے بے حسی کی چادر اوڑھ لی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ شہر لاوارث ہوچکا ہے اور کوئی اس کا پرسان حال نہیں ہے۔ ای چالان نے شہر میں ایک قیامت مچادی ہے۔ کراچی میں 27 اکتوبر سے لگنے والے نئے کیمروں کے بعد صرف 6 گھنٹوں میں ڈیڑھ کروڑ روپے کے چالان کیے گئے اور پولیس اسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام اصلاح نہیں، عوام سے رقم بٹورنے کا نیا ذریعہ بن گیا ہے۔ غریب شہری کی 30 ہزار کی موٹر سائیکل پر 25 ہزار کا جرمانہ لگانا کہاں کا انصاف ہے؟

یہ قانون نہیں، بلکہ کھلا بھتا ہے جسے جدید ٹیکنالوجی کے نام پر عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال چالیس ہزار ٹریفک پولیس اہلکار اندرونِ سندھ سے بھرتی کیے گئے تھے لیکن ان اہلکاروں سے ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے انہیں چالان کے نام پر بھتا خوری اور رشوت خوری پر لگا دیا گیا۔ پہلے اجرک پلیٹ کے نام پر کراچی والوں کو لوٹا گیا اور اب ای چالان کے نام پر بھتا خوری کا ایک نیا قانون شہر میں مسلط کیا جارہا ہے۔ ایک جانب سندھ میں گھوٹکی سے لیکر حیدرآباد تک بغیر نمبر پلیٹ کے موٹر سائیکل ودیگر گاڑیاں کھلے عام دھڑلے کے ساتھ چل رہی ہیں اور کوئی انہیں روکنے ٹوکنے والا نہیں دوسری جانب کراچی کے مظلوم شہریوں پر ای چالان کے نام پرایک ایسا قانون اور ٹیکس کا نظام نافذ کردیا گیا ہے کہ کراچی والے دھائی دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں کراچی کی تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اس زیادتی کے خلاف آواز بلند کریں اور اس ظالمانہ چالان کو عدالت میں چیلنج کر کے اسے منسوخ کرایا جائے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کراچی پر یہ ظلم نہ کرے اور ای چالان کے نام پر بھاری جرمانوں میں کمی کی جائے اور پورے ای چالان نظام کو شفاف طریقے سے چلایا جائے۔ اتنے زیادہ اور بھاری چالان عوام برداشت نہیں کرسکتے اور اس ظلم کے نتیجے میں نفرت کی سیاست پروان چڑھے گی اور عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پھر شہر میں امن وامان کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کراچی پر رحم کرے ان کے صبر کو نہ آزمائے۔ کراچی کے شہریوں کو ناکردہ گناہوں کی سزا نہ دی جائے اور مشرقی پاکستان والے حالات یہاں پیدا نہ کیے جائیں ورنہ کراچی کے عوام اگر اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر حکمرانوں کو جائے پناہ تک نہیں ملے گی۔

 

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چالان کے نام پر کراچی کے عوام ایک جانب حکومت کو ہیں اور ہے اور

پڑھیں:

رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی

حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان