بلاول بھٹو نے ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی کے لمحے کو فخر کا لمحہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ظہران ممدانی کی تاریخی کامیابی کو دنیا بھر کے ترقی پسندوں کے لیے فخر کا لمحہ قرار دے دیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ظہران ممدانی کو ان کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ظہران ممدانی کو نیویارک سٹی کا میئر منتخب ہونے پر دلی مبارک باد۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ان کی تاریخی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ اب کراچی سے نیویارک تک انسانیت کا منشور بن چکا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے مطابق روٹی، کپڑا اور مکان اب بھی صرف نعرہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے عوام کا بنیادی حق ہے۔
واضح رہے کہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار ظہران ممدانی تاریخی کامیابی حاصل کر کے پہلے مسلمان اور کم عمر ترین میئر بن گئے ہیں۔
34 سالہ ظہران ممدانی نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق 49 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف سابق گورنر اینڈریو کومو کو 41 اعشاریہ 6 فیصد ووٹ ملے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: تاریخی کامیابی کی تاریخی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔