وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد کچہری کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واقعے کی فوری طور پر واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا، 12 افراد جاں بحق، 27 زخمی

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد گروہ فتنہ الخوارج کی دہشتگردانہ کارروائی قابل مذمت ہے۔

انہوں نے پوری قوم کی ہمدردیاں شہدا کے خاندانوں کے ساتھ قرار دیتے ہوئے زخمیوں کے جلد شفا یابی کے لیے دعا کی اور حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیاکہ بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والی دہشتگردی، جس میں بے گناہ پاکستانی نشانہ بن رہے ہیں ناقابل قبول ہے۔ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق نشان عبرت بنایا جائےگا۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہاکہ دہشتگرد افغان سر زمین سے کارروائیاں کررہے ہیں۔ انہوں نے وانا کیڈٹ کالج پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ نہتے اور بے قصور شہریوں کے خون کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

مزید پڑھیں: کیڈٹ کالج وانا کے مرکزی گیٹ پر خوش کش حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آگئی

واضح رہے کہ اسلام آباد ضلعی کچہری کے باہر ہونے والے خود کش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 27 زخمی ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسلام آباد خود کش دھماکا تحقیقات کا حکم شہباز شریف مذمت وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد خود کش دھماکا تحقیقات کا حکم شہباز شریف وزیراعظم پاکستان وی نیوز انہوں نے

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری