لیبیا کشتی حادثہ : 2 ملزمان کو مزید 20،20 سال قید بامشقت، 14 لاکھ جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:۔ اسپیشل جج سینٹرل گوجرانوالہ کی عدالت میں زیر سماعت لیبیا کشتی حادثے کے ایک اور اہم مقدمہ 222/2023 میں فیصلہ سنایا گیا۔
فاضل جج نے سماعت مکمل کرتے ہوئے ندیم اسلم اور محمد اسلم کو مزید 20، 20سال قید بامشقت اور 14, 14 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ مجرموں کو امیگریشن آرڈنینس کے تحت 20 سال قید بامشقت اور 8لاکھ روپے جرمانہ جبکہ اسمگلنگ آف مائیگرنٹ ایکٹ کے تحت 20 سال قید اور 20لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔
مجرموں نے اللہ دتہ نامی شہری کو 25لاکھ روپے کے عوض غیر قانونی طور پر لیبیا سے اٹلی بھجوانے کی کوشش کی۔ سال 2023ءمیں ہونے والے کشتی حادثے میں متاثرہ شہری لاپتہ ہو گیا تھا۔
مقدمہ میں شریک ملزم محمد ممتاز کو قبل ازیں اسی مقدمہ میں 20سال قید بامشقت اور جرمانہ 14لاکھ روپے ہو چکا ہے۔
مزید برآں مذکورہ ملزمان سال 2023ءکے انتہائی مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں اور قبل ازیں مقدمہ نمبر 23 /2023 میں معزز عدالت سے 40سال قید بامشقت اور 28لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو چکی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مقدمے کی پیروی اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل اصفہان اکرم کنگ نے کی اور مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹرمحمد ندیم نے کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سال قید بامشقت اور
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔