مشہور زمانہ سیریز ’اسٹرینجر تھنگز‘ کے نئے سیزن کی ریلیز سے قبل کاسٹ کے دو اہم اداکاروں کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس نے مداحوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیریز کی مرکزی اداکارہ ملی بوبی براؤن نے اپنے ساتھی اداکار ڈیوڈ ہاربر کے خلاف مبینہ طور پر ہراسانی اور دباؤ ڈالنے کی شکایت درج کرائی تھی۔

رپورٹس کے مطابق یہ شکایت جنسی نوعیت کی نہیں تھی، تاہم اس پر اندرونی سطح پر طویل انکوائری کی گئی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔

ملی بوبی براؤن کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات میں متعدد نکات شامل تھے، جنہیں تحریری طور پر جمع کرایا گیا تھا۔ یہ شکایت مبینہ طور پر 2023 کے آخر یا 2024 کے آغاز میں سامنے آئی، جس کے بعد سیریز کے آخری سیزن کی شوٹنگ شروع ہوئی۔ اس دوران ڈیوڈ ہاربر کی اہلیہ لِلی ایلن نے مبینہ الزامات کے دوران اپنے شوہر کی حمایت جاری رکھی۔

تاہم اس انکوائری کے نتائج، اس کی نوعیت، یا شوٹنگ پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔ دوسری جانب ملی بوبی براؤن اور ڈیوڈ ہاربر کی جانب سے بھی اسٹرینجر تھنگز کے پروڈکشن ادارے نیٹ فلکس نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟