اسلام آباد کچہری میں خود کش دھماکہ، سپریم کورٹ بار کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہلِ خانہ سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سپریم کورٹ بار کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے قلب میں یہ واقعہ نہ صرف وکلا برادری بلکہ عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا، 12 افراد جاں بحق، 27 زخمی
اعلامیے میں کہا گیا کہ امن عامہ میں خلل ڈالنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ اس وحشیانہ فعل کے ذمہ داروں کو بلا تاخیر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہو۔
اعلامیے میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج وانا پر بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کا حملہ ناکام، 2 خوارج ہلاک، 3 عمارت کے اندر محصور
سپریم کورٹ بار نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے علاقے جی-11 میں واقع ضلعی کچہری کے باہر خودکش دھماکا ہوا ہے جس میں 12 فراد جاں بحق جبکہ 27 زخمی ہوگئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 12 لاشیں اور 20 سے زیادہ زخمی پمز اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد پاکستان خود کُش دھماکہ سپریم کورٹ بار مذمت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد پاکستان خود ک ش دھماکہ سپریم کورٹ بار سپریم کورٹ بار
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔