آج سوگ کا دن، 27ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
آج سوگ کا دن، 27ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی، بیرسٹر گوہر WhatsAppFacebookTwitter 0 11 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ آئین مقدس ذمہ داری ہے آج اس ذمہ داری سے بے ایمانی کی گئی، 27 ویں ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ گئی، ہم ان کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے اوریہ ہوکر رہے گا، آج جمہوریت کو دفن کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا جا رہا ہے، اس ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ جائے گی، 26ویں ترمیم کا رہ جانے والا ایجنڈا اب لایا گیا ہے،
طاقت کے سر پر قائم عمارتوں کو عوام اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہیں، تاریخ میں پہلی مرتبہ باکو میں بیٹھ کر ترمیم منظور کروائی گئی، اس کو ہم باکو ترمیم کہتے ہیں۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہی قانون کی بالادستی ہے، دنیا کے کس ملک میں صدر کے پاس استثنی ہے؟ ذاتی مفادات کیلئے جوعمارتیں قائم کرتے ہیں لوگ انہیں غلامی کی یادگار سمجھتے ہیں، اس باکو ترمیم کو، صبح بے نور کو ہم نہیں مانتے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ اپنے کیسز ختم کراکے سائیڈ پر ہوگئے، ہم عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے؟ عوام کوکھانا نہیں ملتا،
ہسپتال میں بیڈ نہیں، کیا ایک اورایلیٹ کلاس لانا چاہتے ہیں جو قانون سے بھی بالاتر ہو، آپ اپنے 141کیسز کیلئے آئینی عدالت بنارہے ہیں، یہ عدلیہ کے قلعہ کو فتح کرکے مرضی کے فیصلے لینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ نے آرٹیکل 176میں تبدیلی کرکے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا، دنیا میں جب کوئی عدالتی کنونشن ہوگا تو ملک کی نمائندگی نہیں ہوسکے گی کیونکہ آپ نے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ہی ختم کردیا، آئین میں ترمیم ہوتی ہے تو عوام امیدیں جوڑتی ہے، آج افسوس کے ساتھ جمہوریت کے لیے ایک سوگ کا دن ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کیلئے آئین میں تبدیلیاں اتفاق رائے سے کی جاتی ہیں، وزیراعظم نے کہا تھا ہمارے پاس لوٹوں کا ووٹ نہیں آیا، مبارک ہو کل آپ نے 2 لوٹوں کے ووٹ سے ترمیم پاس کرائی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروانا کیڈٹ کالج پر حملہ، سکیورٹی فورسز نے 115افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، سکیورٹی فورسز نے 115افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا تیل و گیس کے ذخائر میں اضافے سے متعلق پی پی ایل کا پی ایس ایکس کو خط ستائیسویں آئینی ترمیم ، اب صرف اللہ کی عدالت باقی رہ گئی ہے ، اسد قیصر اسلام آباد تک جنگ لانا کابل سے ایک پیغام، جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں: وزیر دفاع وانا کیڈٹ کالج میں خوارج کیخلاف آپریشن جاری، 650 افراد میں سے 115 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا اسلام آباد کی عدالت کا گنڈا پور کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ترمیم کے بعد جمہوریت برائے نام رہ بیرسٹر گوہر نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔