صحافی کے تشدد میں ملوث پولیس کانسٹیبل کو سزا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
کانسٹیبل حسیب سمیت اریب، انس، واسط اور عرفان کو بھی سزاسنائی گئی
4سال قبل صحافی کے تشدد میں ملوث پولیس کانسٹیبل کو سزا سنادی گئی، کانسٹیبل حسیب سمیت اریب، انس، واسط اور عرفان کو بھی سزا میں نامزد کیا گیا،
سزا سٹی کورٹ کے سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ معزز جج نے مدعی اور ملزمان کی موجودگی میں سزا سنائی۔
سٹی کورٹ تفصیلات کے مطابق سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کورٹ نمبر 5 کے معزز جج اختر علی عمرانی نے گزشتہ روز ساڑھے 12بجے کیس نمبر 2256/21 کا فیصلہ مدعی اور ملزمان کی موجودگی میں ملزمان کے وکیل ایڈوکیٹ زیدی کے سامنے سنا دیا جس میں ڈسٹرکٹ سینٹرل ایف سی ایریا سے تعلق رکھنے والا ہے۔
پولیس کانسٹیبل حسیب سمیت اریب، انس، عرفان اور واسط کو سزا دے دی گئی، 13جون 2021ء کو پولیس کانسٹیبل حسیب سمیت اریب، انس، عرفان اور واسط نے نارتھ ناظم آباد ٹاؤن کے رہائشی صحافی ماجد خان جو نجی ٹی وی چینل اور اخبار اور کراچی کی صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم سے وابستہ ہیں، انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے ان کے جسم میں ظاہری اور اندرونی چوٹیں آئی تھیں، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہ بھی موجود تھے اس پر ایم ایل او کے بعد متاثرہ صحافی نے ایف آئی آر ڈسٹرکٹ سینٹرل تھانہ شارع نور جہاں میں درج کروائی 337A(۷۱)،531A(1) اور 504 کے تحت، ایف آئی آر کے بعد انس کے علاوہ باقی تمام ملزمان نے قبل از وقت گرفتاری ضمانت سٹی کورٹ سے کروالی تھی جس کے بعد سیشن کورٹ نے پہلی پیشی پر ملزم واسط علی کی ضمانت منسوخ کر دی جس پر ملزم واسط علی نے ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے اپیل دائر کی کچھ ماہ بعد ملزم واسط علی نے ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کی جس کے بعد ان تمام ملزمان کا کیس سٹی کورٹ سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی کورٹ نمبر 5 میں چلایا گیا مدعی کی جانب سے وکالت ایڈوکیٹ محمد ریحان قریشی کر رہے تھے، فیصلہ گزشتہ روز سول اینڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کورٹ نمبر 5 کے معزز جج اختر علی عمرانی نے سناتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمان ثبوتوں کی روشنی میں قصوروار ٹھہرائے جاتے ہیں تمام پر جرمانہ(دیت) عائد کیا جاتا ہے اور 10 دن کی جیل کسٹڈی دی جاتی ہے، معزز جج صاحب نے آرڈر دیتے ہوئے تمام مجرموں کی کسٹڈی کورٹ پولیس کے حوالے کی، کسٹڈی کے بعد تمام مجرموں کو سٹی کورٹ کے لاک اپ میں بند کردیا گیا بعد ازاں انہیں سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا، صحافی حلقوں میں پولیس کی میرٹ پر انوسٹی گیشن اور معزز جج صاحب کے انصاف پر مبنی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کانسٹیبل حسیب سمیت اریب پولیس کانسٹیبل سٹی کورٹ کے بعد
پڑھیں:
حیدرآباد، ایک گھنٹے میں دو پولیس مقابلے، دو زخمی ملزمان گرفتار
حیدرآباد:حیدرآباد میں پولیس نے ایک ہی گھنٹے کے دوران دو الگ الگ مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے مسلح ملزمان سے مبینہ مقابلوں کے بعد دو زخمی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق دونوں کارروائیاں مختلف تھانوں کی حدود میں کی گئیں۔
پولیس ترجمان کے مطابق پہلا مقابلہ تھانہ راہوکی پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان زرداری فارم راہوکی کے قریب ہوا۔
پولیس کی جانب سے روکنے کا اشارہ کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کردی جس پر جوابی کارروائی میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔
گرفتار زخمی ملزم کی شناخت اصغر علی شاہ کے نام سے ہوئی ہے، جس کے قبضے سے پستول بھی برآمد کرلیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ دوسرا مبینہ مقابلہ مکی شاہ پولیس کے ساتھ کینٹ قبرستان کے قریب پیش آیا، جہاں پولیس نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک اور زخمی ملزم کو گرفتار کیا۔
گرفتار ملزم کی شناخت رضا محمد ساکن ٹنڈوالہیار کے نام سے ہوئی ہے، جس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کارروائیوں کے بعد ملزمان کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ فرار ملزم کی تلاش جاری ہے۔