کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل،متعددسیاسی شخصیات ملوث، گرفتاری کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پشاور:(نیوزڈیسک) نیب خیبرپختونخوا نے اپرکوہستان 40 ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں کارروائی کرتے ہوئے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔
نیب ذرائع کے مطابق ملزم مشتاق الرحمان کو اسلام آباد کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، ملزم کی گرفتاری کے بعد مزید افراد ریڈار پر آگئے جن میں بعض سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں اور ان کی گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئی گرفتاری کے ساتھ اس مقدمے میں گرفتار ملزمان کی کل تعداد 33 تک پہنچ گئی ہے جن میں بیشتر ملزمان اس وقت جیل میں پڑے ہیں۔
نیب نے اسلام آباد سے قیمتی گاڑیاں بھی قبضے میں کرلی ہیں جو اس سے قبل احتساب عدالت کے حکم پر منجمد کی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ کوہستان میگا کرپشن کیس صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا مالیاتی اسکینڈلز ہے جس میں اربوں روپے کے فنڈز جعلی منصوبوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے ہڑپ کیے گئے۔
اس اسکینڈل میں کئی سرکاری افسران، ٹھیکہ داروں وغیرہ کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور اربوں کی ریکوری بھی ہوچکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔