نصراللہ رندھاوا کا پمز اسپتال کا دورہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251112-01-6
اسلام آباد (صباح نیوز)جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصراللہ رندھاوا نے اسلام آباد میں کچہری کے باہر ہونے والے افسوسناک دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پمزاسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جیسے پُرامن شہر میں عدالت کے باہر دھماکا ریاستی اداروں کے لیے لمحہ فکر ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف معصوم جانوں کے ضیاع کا باعث بنا بلکہ ہمارے نظامِ امن و انصاف پر ایک سنگین سوالیہ نشان بھی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی مکمل، غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مجرموں کو فوری گرفتار کر کے قرارِ واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ زخمیوں کے علاج معالجے کا فوری اور مؤثر بندوبست کیا جائے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر حال میں امن، عدل اور انسانی جان کے احترام کی علمبردار ہے، اور دہشت گردی کے ہر عمل کو اسلام، انسانیت اور پاکستان کے دشمنوں کا ایجنڈا قرار دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :