نئی دہلی: گیس سلنڈر دھماکے کو پاکستان سے جوڑنے کے لیے طالبان سے منسلک اکاؤنٹس سے پروپیگنڈا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہونے والے دھماکے کی ابتدائی رپورٹ میں گیس دھماکا ہونے کی تصدیق کے باوجود اسے پاکستان کے ساتھ لنک کرنے کی کوششیں کی جانے لگیں۔
سوشل میڈیا پر افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک اکاؤنٹس جعلی لشکر طیبہ کے دعوے تیار کرکے پھیلا رہے ہیں، تاکہ دہلی میں ہونے والے دھماکے کو پاکستان کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
افغانستان سے منسلک گروہ، بشمول ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی، دہلی کار دھماکے کا الزام پاکستان پر ڈالنے کے لیے جعلی لیٹر پھیلا رہے ہیں۔ نام نہاد لشکرِ طیبہ کا خط جعلی، خراب ٹائپنگ اور فرضی لیٹر پیڈ پر چسپاں ہے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش۔ #blast #india #NewDelhi pic.
— Abbas Chandio (@AbbasChandio__) November 10, 2025
دہلی میں جونہی دھماکا ہوا تو بھارتی میڈیا دبے الفاظ میں اسے پاکستان کے ساتھ لنک کرنا شروع ہوگیا تھا، تاہم بعد ازاں ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ گیس بم دھماکا تھا۔
مزید پڑھیں: نئی دہلی: لال قلعہ میٹرو اسٹیشن قریب گیس سلنڈر کا دھماکا، 9 افراد ہلاک، متعدد زخمی
رپورٹس کے مطابق پولیس نے پہلے تصدیق کی کہ دھماکا سی این جی سلنڈر کے باعث ہوا تھا۔ تاہم اب پولیس پر مودی حکومت کی جانب سے سیاسی دباؤ ہے، جس کے باعث اہلکار کچھ بھی بتانے میں ہچکچکاہٹ کا شکار نظر آئے۔
According to Republic’s report, the police had earlier confirmed that the explosion was caused by a CNG cylinder. However, now the police are under political pressure from Modi’s government, which has made them nervous and hesitant. #Delhi #Blast #Carblast pic.twitter.com/8b7oVoquyM
— Col Aarti Yadev (@911y3) November 10, 2025
دھماکے کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ واقعے کے بعد نئی دہلی اور اطراف میں سیکیورٹی بھی سخت کردی گئی۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے بغیر ثبوت کسی بھی واقعے کا الزام پاکستان پر لگانا کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل اپریل میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا گیا تھا۔
پہلگام واقعہ کی آڑ میں ہی بھارت نے مئی میں پاکستان پر حملہ کیا، جس کے جواب میں مسلح افواج پاکستان نے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے۔
اب جبکہ بھارت کو دفاعی محاذ پر عبرتناک شکست ہو چکی ہے تو وہ نا صرف خود پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، بلکہ اب افغان طالبان بھی بھارت کے ہمنوا نظر آرہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اور افغان طالبان مل کر بھی دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے۔
’پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے بھارت کو شفاف تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی لیکن دشمن نے حملہ کردیا۔‘
بھارت کی اسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اسے نہ صرف دفاعی محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سفارتی میدان میں بھی شکست ہوئی کیوں کہ دنیا جان چکی ہے کہ بھارت کسی بھی معاملے کا الزام بغیر ثبوت پاکستان پر لگا دیتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews افغان طالبان پروپیگنڈا گیس سلنڈر دھماکا نئی دہلی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان پروپیگنڈا گیس سلنڈر دھماکا نئی دہلی وی نیوز افغان طالبان پاکستان پر نئی دہلی کا الزام
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔