ڈیموکریٹس کی غزالہ ہاشمی ورجینیا کی پہلی مسلم نائب گورنر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
چار برس کی عمر میں غزالہ والدہ اور بڑے بھائی کے ساتھ جارجیا میں اپنے والد کے پاس انڈیا سے منتقل ہوئی تھیں، اس وقت ان کے والد بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی مکمل اور یونیورسٹی میں تدریسی کریئر کا آغاز کر رہے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ورجینیا میں ڈیموکریٹس کی غزالہ ہاشمی نائب گورنر منتخب ہوگئیں۔ ڈیموکریٹس کی غزالہ ہاشمی نے 12 لاکھ 72 ہزار 6 سو 99 ووٹ حاصل کئے، ان کے مدمقابل جان ریڈ نے 10 لاکھ 43 ہزار 90 ووٹ حاصل کئے۔ واضح رہے کہ ورجینیا کی نائب گورنر کا انتخاب لڑنے والی سینیٹر غزالہ ہاشمی ورجینیا سینیٹ میں خدمات انجام دینے والی پہلی مسلمان اور پہلی جنوبی ایشیائی نژاد امریکی شہری ہیں۔ غزالہ ہاشمی تجربہ کار ماہر تعلیم، شمولیتی اقدار اور سماجی انصاف کی حامی کے طور پر ان کی قانون سازی کے لئے ترجیحات میں عوامی تعلیم، ووٹنگ کے حقوق، جمہوریت کا تحفظ، تولیدی آزادی، اسلحے کے زور پر تشدد کی روک تھام، ماحولیات، رہائش اور صحت کی سستی سہولت تک رسائی شامل ہیں۔ چار برس کی عمر میں غزالہ والدہ اور بڑے بھائی کے ساتھ جارجیا میں اپنے والد کے پاس انڈیا سے منتقل ہوئی تھیں، اس وقت ان کے والد بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی مکمل اور یونیورسٹی میں تدریسی کریئر کا آغاز کر رہے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق غزالہ ہاشمی 1964ء میں انڈیا کے شہر حیدرآباد میں تنویر اور ضیاء ہاشمی کے ہاں حیدر آبادی خاندان میں پیدا ہوئیں، اپنے بچپن میں وہ اپنی نانی کے گھر میں رہیں، ان کے نانا آندھرا پردیش کی حکومت کے محکمہ مالیات میں خدمات انجام دیتے تھے۔ غزالہ نے اسی چھوٹے سے کالج ٹاؤن میں پرورش پائی، جب سرکاری سکولوں میں نسلی امتیاز ختم کیا جا رہا تھا، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح ثقافتی، نسلی اور سماجی و معاشی خلیج کو پر کرنے کی شعوری کوششوں سے کمیونٹی قائم کی جا سکتی ہے اور مکالمہ فروغ پا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غزالہ ہاشمی
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔