Express News:
2026-07-24@04:51:20 GMT

فلسطینی بچوں پر اعتبار نہیں ہو سکتا

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشنز کی ردی کے ڈھیر میں انیس سو نواسی کا اقوامِ متحدہ کنونشن برائے حقوقِ اطفال بھی پایا جاتا ہے۔یعنی اٹھارہ برس سے کم عمر انسانوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا بین الاقوامی ضابطہ۔

کوئی عمل کرے نہ کرے مگر اس کنونشن کے آرٹیکل سینتیس کے مطابق ہر بچے کو فوری قانونی امداد تک رسائی اور گرفتاری کے جواز کو عدالت میں چیلنج کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔امریکا واحد ملک ہے جس نے اس کنونشن کی توثیق نہیں کی۔ اگرچہ اسرائیل کنونشن کا دستخطی ہے مگر ہر بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی طرح کنونشن برائے حقوقِ اطفال کو بھی اسرائیل اپنی ٹھوکر پر رکھتا ہے۔

اسرائیلی جیل سروس ( آئی پی ایس ) کے تیس جون تک کے اعداد و شمار کے مطابق تین سو ساٹھ بچے قید ہیں۔یہ تعداد دو ہزار سولہ کے بعد سے کسی ایک سال میں سب سے زیادہ ہے۔ان میں سے ایک سو سینتالیس بچے ( اکتالیس فیصد ) بنا فردِ جرم و مقدمہ محض انتظامی نظربندی کے کالے فوجی قانون کے تحت قید ہیں۔

یہ قانون انیس سو سڑسٹھ سے صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر لاگو ہے۔ فلسطینیوں کے مقدمات کی سماعت بھی خصوصی فوجی عدالتیں ہی کرتی ہیں۔ایک فلسطینی نژاد اسرائیلی وکیل سحر فرانسس کا کہنا ہے کہ یہ فوجی عدالتیں ہر سال اوسطاً پانچ سو بچوں کو بھی مختلف المیعاد سزائیں سناتی ہیں۔ سزا سنائے جانے کا تناسب ننانوے فیصد ہے جو بذاتِ خود ایک عالمی ریکارڈ ہے ۔

زیادہ تر بچوں پر پتھراؤ کی فردِ جرم عائد کی جاتی ہے۔اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا بیس برس ہے۔بھلے پتھراؤ سے کوئی نقصان نہ بھی ہو تب بھی کم ازکم چھ ماہ یا سال بھر کی سزا ضرور ملتی ہے اور اس میں اکثر وہ دورانیہ شامل نہیں کیا جاتا جو ملزم نے فردِ جرم عائد ہونے سے پہلے قید میں گذارا ہو۔شاید ہی کوئی ایسا بچہ ہو جسے بنا اقبالِ جرم رہائی مل سکے۔البتہ یہودی آبادکار اور ان کے بچے اس فوجی قانون سے مستثنٰی ہیں اور ان کے مقدمات اسرائیل کے سویلین فوجداری قوانین کے تحت سنے جاتے ہیں۔

دو ہزار چودہ میں انتظامی نظربندی کے قانون میں مزید ترمیم کر کے پولیس کو پتھراؤ کرنے والوں پر سیدھی گولی چلانے کا اختیار بھی مل گیا۔اس قانون کے تحت پتھراؤ کو شرپسندی کے زمرے سے نکال کر دھشت گردی کے دائرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہودی آبادکاروں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی دھشت گردی اور عمومی خوف و ہراس پھیلانے کی تعریف کے دائرے میں آ گئے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ ان دنوں ایک قانونی مسودے پر غور کر رہی ہے جس کی منظوری کے بعد سزا یافتہ دھشت گردوں ( فلسطینی ) کو پھانسی دینے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔اگرچہ دورانِ جنگ غداری ، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے مگر آخری بار انیس سو باسٹھ میں نازی جنگی مجرم اڈولف آئخمین کی سزاِ موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔ (بچوں کو سزاِ موت نہیں دی جا سکتی مگر امن و امان کی بحالی کے بہانے سیدھی گولی ضرور مار دی جاتی ہے )۔

قیدی بچوں کی قانونی معاونت کرنے والی ایک مقامی تنظیم ( ڈی سی آئی پی ) سے وابستہ سماجی کارکن عائد ابوعقتیش کا کہنا ہے کہ بالخصوص اکتوبر دو ہزار تئیس کے بعد سے گرفتار ہونے والے بچوں کو الگ رکھنے کے بجائے پہلے سے کھچا کھچ جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے۔ انھیں بوسیدہ خوراک ملتی ہے اور جیل کے سنتری بات بے بات تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ان بچوں تک خاندان کو رسائی نہیں۔ مقدمات کی سماعت بھی بلا قانونی جواز مسلسل ملتوی ہوتی رہتی ہے۔

زیادہ تر بچے مغربی کنارے کی میگیڈو اور اوفر جیل میں ہیں۔اسرائیل ہر سہہ ماہی میں جو ڈیٹا جاری کرتا ہے اس میں ان بچوں یا بڑوں کی تفصیلات نہیں ہوتی جو ہوارا اور سدِ تیمان کے فوجی کیمپوں یا دیگر فوجی مراکز میں تفتیش کے بہانے رکھے جاتے ہیں۔

ان بچوں سے وکلا کو ملاقات کے لیے مہینوں انتظار کروایا جاتا ہے۔انھیں قیدیوں سے بہت دیر یا تخلیے میں بات کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔گزشتہ دو برس سے ریڈ کراس کے نمایندوں پر بھی جیل میں داخلے پر پابندی ہے۔گویا ہر وہ حربہ استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے قیدیوں اور ورثا کے درمیان کوئی بھی براہِ راست یا بلاوسطہ رابطہ ممکن نہ ہو۔

گزشتہ دو برس میں غزہ سے جن بچوں کو حراست میں لیا گیا ان سے اور بالغ قیدیوں سے ناروا سلوک کا فرق قطعاً مٹ چکا ہے۔غزہ کے جو قیدی رہا ہوئے ہیں وہ جیل کے اندر کے حالات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ان میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ بچوں کی مشکیں بھی بڑے قیدیوں کی طرح مسلسل کس کے رکھی جاتی ہیں۔اس عمل کے سبب دورانِ خون متاثر ہوتا ہے لہٰذا بہت سوں کے بازو اور انگلیاں ناکارہ ہو جاتے ہیں۔

بعض کیسوں میں ڈنڈوں کے ذریعے جنسی تشدد کیا جاتا ہے۔بہت سے قیدی جن میں بچے بھی شامل ہیں رہائی کی کچھ مدت بعد دوبارہ حراست میں لے کر وہیں پہنچا دیے گئے جہاں سے رہائی ملی تھی۔

انسانی حقوق کی ایک اسرائیلی تنظیم حاموکڈ کا دعویٰ ہے کہ ہر عمر کے لگ بھگ چار سو فلسطینی گرفتاری کے بعد سے کسی گنتی شمار میں نہیں۔ اسرائیلی ذرایع ان کی تحویل سے انکاری ہیں۔فزیشن فار ہیومین اسرائیل کے ایک وکیل ناجی عباس کا کہنا ہے کہ شاید بہت سے لاپتہ کہے جانے والے افراد دوبارہ کبھی دیکھنے کو نہ ملیں۔سات اکتوبر دو ہزار تئیس سے اب تک دورانِ قید لگ بھگ نوے قیدیوں کی موت کا سرکاری اعتراف تو کر لیا گیا ہے۔

  آپ میں سے اکثر نے ایک فلسطینی بچے کی تصویر ضرور دیکھی ہو گی جو ہاتھ میں پتھر اٹھائے ایک اسرائیلی ٹینک کے سامنے کھڑا ہے۔یہ تصویر فلسطینی مزاحمت کا سب سے مقبول عالمی سمبل ہے۔اسے خبر رساں ایجنسی اے پی کے فوٹوگرافر لارین ریبورس نے اٹھائیس اکتوبر سن دو ہزار میں غزہ میں ایک مظاہرے کے دوران کھینچا تھا۔اس کے گیارہ روز بعد غزہ کی کارنی کراسنگ پر ایک مظاہرے پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں ایک گولی اس بچے کی گردن پر لگنے سے وہ شہید ہو گیا۔

اس بچے کا نام فارس اودیہہ ہے۔یہ چوتھائی صدی سے فلسطینی مزاحمت کا پوسٹر بوائے ہے۔فارس کی تدفین میں ہزاروں لوگ شریک ہوئے۔صدام حسین نے اس کے خاندان کے لیے دس ہزار ڈالر کا امدادی چیک بھیجا۔فارس کی غلیل رملہ کے سکینی کلچرل سینٹر میں مزاحمتی سمبل کے طور پر رکھی گئی۔

اسرائیل کو تب سے خوف ہے کہ کسی بھی بچے کے اندر سے ایک فارس اودیہہ کبھی بھی باہر نکل سکتا ہے۔لہٰذا ہر فلسطینی ’’ دھشت گرد ‘‘ ہے۔بھلے وہ ماں کے پیٹ میں ہو یا بلوغت کی سرحد پر کھڑا ہو۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.

com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ بچوں کو جاتا ہے کے بعد اور ان

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف