جی-7 ممالک کا روس پر دباؤ بڑھانے اور ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
کینیڈا کے شہر نیایاگرا میں ہونے والے جی-7 وزرائے خارجہ اجلاس میں روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینیوں تک امداد کی بحالی پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: گولڈن بلین کیا ہے اور اسکی حکمرانی کو کیا خطرہ درپیش ہے؟
یوکرین کے وزیر خارجہ نے اتحادیوں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کرنے اور توانائی شعبے میں مدد کی اپیل کی۔
دوسری جانب، اجلاس کے دوران کیریبین میں امریکی فوجی کارروائیوں پر یورپی ممالک نے تشویش ظاہر کی، جن میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر حملوں کے باعث درجنوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں: روس-چین قربتیں، کیا دنیا، مغرب کے بغیر آگے بڑھنے کو تیار ہے؟
فرانس اور برطانیہ نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ کولمبیا نے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون معطل کر دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جی-7 ممالک روس غزہ فرانس اور برطانیہ کینیڈا مبینہ منشیات بردار کشتیاں نیایاگرا وزرائے خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جی 7 ممالک فرانس اور برطانیہ کینیڈا مبینہ منشیات بردار کشتیاں
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔