سینئر صحافی عمار مسعود نے اسد طور کے خاتون صحافی فرزانہ علی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے درمیان سخت مکالمے کے دعوے کی تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی اسد طور نے دعویٰ کیاہے کہ نجی ٹی وی کی صحافی فرزانہ علی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے تلخ سوال کیا تو وہ برہم ہوئے لیکن ساتھ بیٹھے سینئر اینکر پرسن کامران شاہد نے مبینہ طور پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر پابندی لگا دینی چاہیے تاہم صحافی عمار مسعود نے اسد طور کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیدیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق اسد طور نے وی لاگ میں دعویٰ کیا کہ نجی ٹی وی کی صحافی فرزانہ علی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو کہا کہ ہمارے لیئے تو ریاست آپ ہی ہیں، ہمارے ٹکرز بھی آپ کی مرضی سے چلتے ہیں، ورنہ تو وہ بھی نہیں چلتے ، ہمارے پروگراموں میں مہمان بھی آپ کی مرضی سے ہی آتے ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اس پر برہم ہوئے اور کہا آپ کا تعلق کس ادارے سے ہے ، فرزانہ علی نے کہا میرا تعلق آج ٹی وی سے ہے ، انہوں نے کہا کہ تو کیا آپ کے چینل نے آپ کو نہیں بتایا کہ آپ کے چینل کو پیمراکنٹرول کرتاہے ، آپ کے چینل کا ایک لائسنس ہوتاہے ۔
راولپنڈی، سود خوروں کی شادی شدہ خاتون سے متعدد بار زیادتی، کروڑوں روپے ہتھیائے اور پھر زہر دے کر مار ڈالا
آج نیوز کی فرزانہ علی نے ڈی جی سے ایک تلخ سوال پوچھا کہ ہمارے لئے تو ریاست آپ ہی ہیں ہمارے پروگراموں میں ٹکر بھی آپ کی مرضی کے چلتے ہیں جس پر ڈی جی صاحب نے جو برہم ہونا تھا وہ تو ہوئے لیکن وہاں بیٹھے اینکر کامران شاہد نے ڈی جی کو کہا کہ ان پر پابندی لگا دینی چاہیے ! اسد طور ۔۔۔ pic.
اسد طور کا کہناتھا کہ ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ اگر ہم یہ نہ کریں تو اتنا پراپیگنڈہ ہو جس طرح بھارتی چینلز نے عاصمہ شیرازی کے نام سے منسوب جھوٹی خبر چلا دی، ہمارے چینلز پر بھی یوں خبریں چلیں گی، خواتین کی ننگی تصویریں چلا دیں گے ، ہم اس کیلئے ایکٹو نہ ہوں؟۔
صحافی کا کہناتھا کہ مجھے ذرائع نے بتایا کہ جب فرزانہ علی نے یہ تلخ سوال کیا تو اس پر کامران شاہد نے مبینہ طور پر ڈی جی آئی ایس پی آر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پر پابندی لگوائیں، یہ کتنا افسوسناک ہے کہ آپ اپنی ساتھی صحافی کے بارے میں یہ فرما رہے ہیں ۔
اسپیس ایکس اور اسٹار کلاؤڈ کا بڑا کارنامہ، دنیا کا پہلا خلا میں چلنے والا سولر ڈیٹا سینٹر لانچ
سینئر صحافی عمار مسعود نے کہا کہ میں بھی اس میٹنگ میں موجود تھا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، کوئی بس خیالی دنیا میں زندگی گزار رہاہے ۔
I was there — nothing like that happened. Someone’s just living in a fantasy world. https://t.co/FqsahOmG3K
— Ammar Masood (@ammarmasood3) November 6, 2025مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر فرزانہ علی نے نے ڈی جی کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔