بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے شہر سری کاکولم میں سری وینکٹیشورا سوامی مندر میں بھگدڑ کے باعث کم از کم 9 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کا بنگلورو میں بھگدڑ مچنے کے واقعے پر پہلی بار اظہار خیال، متاثرین کے لیے کیا پیغام دیا؟

ریاست کے ڈپٹی چیف منسٹر پاون کلیان کے مطابق بھگدڑ اس وقت مچی جب مندر میں ایک ہی وقت میں 25 ہزار سے زائد افراد جمع ہوگئے، حالانکہ مندر کی گنجائش صرف 2 ہزار افراد کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کرائی جائیں گی، مندر نجی انتظامیہ کے تحت چلایا جاتا ہے۔

ضلع سری کاکولم کے کلیکٹر سواپنل دنکر پُندکر کے مطابق اب تک 18 زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں بڑے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار و سیاستدان کے جلسے میں بھگدڑ، 31 افراد ہلاک، 50 زخمی

وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ایک ماہ قبل 28 ستمبر کو تمل ناڈو میں انتخابی جلسے کے دوران بھگدڑ سے 39 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آندھرا پردیش بھارت بھگدڑ مندر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت بھگدڑ میں بھگدڑ

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی