بیرونی ادائیگیوں کے باعث ریزروز میں دو کروڑ ڈالر سے زائد کمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے کے دوران مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 31 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملکی فارن ایکسچینج ریزروز میں 2 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی کمی آئی، جس کے بعد مجموعی ذخائر 19.
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ ہفتہ وار بنیاد پر کمی دیکھی گئی، تاہم اکتوبر کے پورے ماہ کے دوران مجموعی طور پر ملکی ذخائر میں 75 کروڑ 93 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماہانہ بنیاد پر فلو بہتر رہا لیکن آخری ہفتے میں دباؤ بڑھا۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس رکھے گئے ذخائر 3 کروڑ 12 لاکھ ڈالر اضافے سے 14.50 ارب ڈالر ہوگئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی بینک کی سطح پر کچھ سپورٹ موصول ہوئی ہے۔
تاہم دوسری جانب کمرشل بینکوں کے ذخائر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور وہ 5 کروڑ 52 لاکھ ڈالر کم ہوکر 5.16 ارب ڈالر رہ گئے، جس سے مجموعی ریزروز کے نیٹ اثر میں کمی واقع ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاکھ ڈالر
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔