تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت،حنیف گوہر کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت،حنیف گوہر کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 November, 2025 سب نیوز
کراچی (آئی پی ایس) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر حنیف گوہر نے انکشاف کیا ہے کہ تربیلا ڈیم کی مٹی میں تقریباً 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔
کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف گوہر نے بتایا کہ اس انکشاف سے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔
ایئر کراچی کے چیئرمین حنیف گوہر کے مطابق، وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں نے اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غوطہ خوروں نے تربیلا ڈیم کے اندر سے مٹی کے نمونے حاصل کیے جنہیں لیبارٹری میں جانچنے کے بعد سونے کی موجودگی ثابت ہوئی۔
نتائج کی بنیاد پر تخمینہ لگایا گیا کہ ڈیم کی مٹی میں موجود سونے کی مجموعی مالیت تقریباً 636 ارب ڈالر ہے، جو پاکستان کا قومی قرضہ ختم کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ واپڈا کو خود مکمل کرنا چاہیے، تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان کی کمپنی اس میں سرمایہ کاری کرنے، سونا نکالنے اور حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
حنیف گوہر کے مطابق ان کی ٹیم نے ہالینڈ، ایمسٹرڈم اور کینیڈا کے ماہرین سے بات چیت مکمل کر لی ہے اور اگر حکومت اجازت دے تو منصوبے پر فوری عملدرآمد شروع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی ایئر لائن ’ایئر کراچی‘ کے حوالے سے بھی اعلان کیا کہ اس کی اندرونِ ملک پروازیں 23 مارچ 2026 سے شروع کی جائیں گی۔
’ابتدائی مرحلے میں 3 سے 5 ایئربس طیاروں پر مشتمل بیڑا متعارف کرایا جائے گا، جبکہ کامیاب آپریشن کے ایک سال بعد بین الاقوامی پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔‘
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم آذربائیجان کے یومِ فتح کی 5 ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے باکو روانہ وزیراعظم آذربائیجان کے یومِ فتح کی 5 ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے باکو روانہ پاکستان اور ایران عالمی امن اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں، وزیراعظم چین کے کھلے پن کے دروازے دن بدن وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں ، چینی وزارت تجارت وزیر اعظم کی جعلی تصویر پر درج مقدمے کے خلاف شاندانہ گلزار کاقانونی جنگ لڑنے کا اعلان پیپلز پارٹی کی سیاست پر سوالیہ نشان ہے، مجھے مک مکا نظر آ رہا ہے، اسد قیصر ستائیسویں ترمیم پر مشاورت کیلئے آج طلب کیا گیا وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتویCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈیم کی مٹی میں تربیلا ڈیم حنیف گوہر ارب ڈالر
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔