لاٹری ٹکٹ گھر بھولنے والے امریکی شہری نے 5 لاکھ ڈالر کیسے جیت لیے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
امریکی ریاست اوہائیو کے شہر روزویل کے ایک شخص نے 50 ڈالر کی جیت والی اسکریچ آف لاٹری ٹکٹ گھر پر بھول جانے کے بعد دکان سے وہی لاٹری ٹکٹ دوبارہ خریدی اور اس بار قسمت نے اس کا ساتھ دے دیا، دوسری ٹکٹ نے اسے 5لاکھ ڈالر کا انعام دلوا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی شہری نے 5 لاکھ 64 ہزار 219 ڈالر کی لاٹری جیت لی، رقم سرمایہ کاری پر لگانے کا اعلان
اوہائیو لاٹری حکام کے مطابق وہ شخص اپنی پہلی 50 ڈالر جیتنے والی ٹکٹ کیش کرانے کے لیے زینس وِل کے ساؤتھ 60 مارکیٹ پہنچا، لیکن وہاں جاکر احساس ہوا کہ ٹکٹ تو گھر پر ہی رہ گئی ہے۔
تاہم وہ واپس نہیں لوٹا بلکہ اسی گیم کی ایک اور ٹکٹ خریدی، گاڑی میں بیٹھ کر اسکریچ کی اور حیران رہ گیا، کیونکہ اس بار ٹکٹ پر جیت کی رقم 5لاکھ ڈالر درج تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’ساؤتھ کیرولائنا خاتون نے دو ماہ میں دوسری بڑی لاٹری جیت لی‘
خوش قسمت شہری نے بتایا کہ وہ یہ رقم قرضہ ختم کرنے، نئی گاڑی خریدنے اور کام کے دن کم کرکے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے پر خرچ کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا انعامی رقم اوہائیو ٹکٹ لاٹری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔