ترکیہ کی علامہ اقبالؒ کی رہائشگاہ کی بحالی کیلئے تعاون کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ترکیہ کے وفد نے سیکرٹری سیاحت پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ سے ملاقات کی اور انہیں عمارت کی بحالی کیلئے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ترکیہ کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور معاملہ صوبائی کابینہ کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور کے قدیم اور مصروف ترین علاقے گڑھی شاہو میں واقع ’’جاوید منزل‘‘ شاعر مشرق اور مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کے آخری ایام کی عینی شاہد ہے۔ شاعر مشرق کی یہ آخری آرام گاہ جاوید منزل آج بھی ان کی یادوں سے مزین ہے۔ علامہ اقبالؒ نے جاوید منزل میں اپنی زندگی کے آخری تین سال گزارے۔ ان کے زیراستعمال سوٹ، شیروانی، عینک، گھڑی، مہر، ادویات اور بستر کے علاوہ کرسی، صوفے اور میز بھی دیکھنے والوں کو اقبالؒ کی زندگی میں جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔ جاوید منزل میں مفکر پاکستان کے زیراستعمال اشیاء، ہاتھ سے لکھا کلام اور ان کی زندگی سے جڑی چھوٹی بڑی اشیاء دیکھنے والوں کیلئے سجائی گئی ہیں۔
اس عمارت کی بحالی کیلئے ترکیہ کی حکومت نے پنجاب حکومت سے رابطہ کیا ہے۔ ترکیہ کے وفد نے سیکرٹری سیاحت پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ سے ملاقات کی اور انہیں عمارت کی بحالی کیلئے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ سیکرٹری سیاحت ڈاکٹر احسان بھٹہ نے ترکیہ کے وفد کا شکریہ ادا کیا اور معاملہ صوبائی کابینہ کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کروائی۔ سیکرٹری سیاحت نے کہا کہ پنجاب کابینہ کے منظوری کے بعد عمارت تزئین و آرائش کیلئے ترکیہ کے حوالے کر دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی بحالی کیلئے سیکرٹری سیاحت ترکیہ کے وفد جاوید منزل
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔