ایک انٹرویو میں سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ گلبر سرکار غیر فطری تھی، دنیا میں کہیں نہیں دیکھا کہ بغیر پارٹی والے رکن اسمبلی کو وزارت اعلی کا منصب دیا گیا ہو، وزارتِ اسی رکن اسمبلی کو ملتی ہے جس کی پارٹی ہوتی ہے، بغیر پارٹی والے کو وزارت اعلی کا منصب دینے کی روایت ہمارے ہاں دیکھی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ گلبر گروپ مفادات کا ٹولہ ہے، یہ گروپ ٹھیکوں اور نوکریوں کے حصول کیلئے بنایا گیا ہے، یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے، دنیا میں کہیں نہیں دیکھا کہ بغیر پارٹی والے شخص کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہو، یہ روایت ہم نے صرف گلگت بلتستان میں دیکھی ہے۔ مقامی روزنامے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں حفیظ الرحمن کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں جماعتی الائنس کبھی کامیاب نہیں رہا ہے، ڈیلیوری کیلئے سنگل پارٹی کو اکثریت ملنی چاہیئے، مسلم لیگ نون اپنی بساط کے مطابق الیکشن میں حصہ لے گی کسی جماعت کے ساتھ قبل از انتخابات اتحاد ہو گا اور نہ ہی سیٹ ایڈجسٹمنٹ، تاہم انتخابات کے بعد ضرورت محسوس ہوئی تو کسی ہم خیال جماعت کو حکومت میں شامل کرنے کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے، ہماری پارٹی آئندہ الیکشن میں اکثریت لینے میں کامیاب ہو گی، ہماری تیاری مکمل ہے، تیاریاں ہم نے ڈھنڈورے پیٹ کر نہیں کیں ہم اپنی جماعت کے منشور کی بنیاد پر الیکشن میں جائیں گے۔

 ان کا کہنا تھا مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ کسی ایک جماعت کو اکثریت ملے، مخلوط حکومت ڈیلور نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تمام خرابیوں اور خامیوں کی ذمہ دار پیپلز پارٹی بھی ہے، گورنر کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے، وزیراعلی حاجی گلبرخان ہر فیصلے میں پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ اور دیگر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت بھی کرتے ہیں، حکومت کے ہر فیصلے میں پیپلز پارٹی شامل ہے، لہذا مسائل کی ذمہ دار حکومت کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی بھی ہے، حکومت کی خرابیوں، خامیوں اور ناکامیوں کا بوجھ پیپلز پارٹی کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہو گی کہ خطے میں صاف ستھری نگراں حکومت قائم ہو کیونکہ اگر نگراں حکومت داغدار ہوئی تو پورے انتخابات متنازعہ ہونگے اور انتخابی عمل پر انگلیاں اٹھیں گی، ہم چاہتے ہیں کہ کسی سیاسی مذہبی جماعت کے بندے کو نگراں حکومت کا حصہ نہ بنایا جائے، حکومت میں ایسے لوگ شامل کئے جائیں جو سیاسی انتظامی امور چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے ہوں، سیاسی لوگ ضرور شامل ہو مگر تعلق کسی جماعت سے نہ ہو۔

حفیظ الرحمن نے کہا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کیلئے نام وزیراعلی اور اپوزیشن لیڈر نے دینے ہیں، کچھ نام وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان نے دینے ہیں، وفاقی وزیر جب وہ نام ہم سے مانگیں گے تو ہم دیں گے، ہماری خواہش ہے کہ حکومت سب کیلئے قابل قبول ہو تاکہ انتخابی عمل صاف شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے نمٹایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلبر گروپ مفادات کا ٹولہ ہے، یہ گروپ محض ٹھیکوں اور نوکریوں کے حصول کیلئے بنایا گیا ہے، یہ کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے،  ہم چیلنج کرتے ہیں کہ گلبر خان 26 نومبر کے بعد اپنی جماعت بناکر دکھائیں، جماعت بنانا کوئی آسان کام تھوڑا ہے، اس کیلئے وسائل چاہیئں ہوتے ہیں قابلیت درکار ہوتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والی منتخب حکومت موجودہ حکومت سے کئی گنا بہتر ہو گی، یہ گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ ہے کہ الیکشن میں 99 فیصد لوگ نئے منتخب ہو کر آتے ہیں جو اسمبلی میں رہے ہوں ان کا انتخاب کم سے کم کیا جاتا ہے، لوگوں میں نئے امیدواروں کے انتخاب کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، موجودہ حکومت میں شامل بہت سارے لوگ ہم سے رابطے میں ہیں، ان میں سے بہت ساروں کو جواب ہی نہیں دیا تاہم کچھ کو انگیج رکھا ہوا ہے کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ حکومت میں شامل بہت سارے لوگ الیکشن ہار جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گلبر سرکار غیر فطری تھی، دنیا میں کہیں نہیں دیکھا کہ بغیر پارٹی والے رکن اسمبلی کو وزارت اعلی کا منصب دیا گیا ہو، وزارتِ اسی رکن اسمبلی کو ملتی ہے جس کی پارٹی ہوتی ہے، بغیر پارٹی والے کو وزارت اعلی کا منصب دینے کی روایت ہمارے ہاں دیکھی گئی ہے، یہ سب کچھ خالد خورشید کی ضد، آنا اور عمران خان سے بے جا عشق کی وجہ سے ہوا ہے، مگر ہمارے لوگوں کا حافظہ بہت کمزور ہے، وہ چیزیں جلدی بھول جاتے ہیں اور آج کے واقعے کو آج کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جاتے جاتے چودہ (14) نئی تحصیلوں کی منظوری دی ہے ہمارا سوال ہے کہ حکومت نے تحصیلیں پہلے کیوں نہیں بنائیں، ابھی اس لئے نئی تحصیلوں کی منظوری دے رہی ہے تاکہ نئی حکومت کو مشکلات پیدا کی جائیں، اگر نیت ٹھیک ہوتی تو حکومت پہلے ہی تحصیلیں بنا لیتی، انہوں نے کہا کہ 7 اور 8 نومبر کو لندن میں ورلڈ ٹورزم کانفرنس ہو رہی ہے، اس میں وزیراعلی اور ان کے ساتھیوں شرکت کرنی ہے وہاں جانے کیلئے پانچ کروڑ روپے کی ڈیمانڈ کی ہے، بتاؤ پانچ کروڑ روپے خرچ کرکے وزیراعلی اور وزراء نے لندن جاکر کیا تیر مارنا ہے ؟ حکومت کی شاہ خرچیوں کی وجہ سے ہمارے مسائل روز بروز بڑھتے جارہے ہیں، وفاق اگر 100 روپے دیتا ہے تو حکومت یہاں 150 روپے اپنی عیاشیوں پر اڑاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کو وزارت اعلی کا منصب بغیر پارٹی والے انہوں نے کہا کہ رکن اسمبلی کو گلگت بلتستان حفیظ الرحمن پیپلز پارٹی الیکشن میں حکومت میں وزیر اعلی کہ حکومت کہ گلبر

پڑھیں:

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ  نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق  بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی  کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔  بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی   ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع  ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

 بنگلہ دیش کے  میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی  ویڈیو قرار دیا، لیکن جب  تنقید کرنے والے  خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک  ادارے  نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔  نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ  ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو   میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر  تنقید کافی برھ گئی تو    جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔  غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے  اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

 نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور  ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ  شوہر کے مؤقف کی  تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی  قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

 بنگلہ دیشی میڈیا  میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم  سے متعلق  قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز  پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی  کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔ 

دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل

 بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔  غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو  دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔

 نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ  ڈرائیور، دوسری  کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا،  ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور  ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔  نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔  لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر  میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔  

پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی

  اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی