کراچی (نیوزڈیسک) سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کسی بھی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی کسی کو غدار سمجھتی ہے تاہم پی ٹی آئی کو بھی اپنی سیاست پر نظرثانی کرنا ہوگی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آئے اور اعتراف کرچکے ہیں کہ انہیں بلوں کی منظوری کیلیے بھی اداروں سے مدد ملی تھی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے تین سالہ دور اقتدار کے انٹرویوز ریکارڈ پر موجود ہیں، عدم اعتماد کے وقت یہ تاحیات ایکسٹیشن دینے کو راضی اور اسٹیبلشمنٹ کے ترلے کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جو نوجوان اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے تو وہ ماضی کے بیانات ضرور سن لے۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان کی سیاست ملک یا عوام کیلیے نہیں بلکہ صرف اپنے اور خاندان کو بچانے کیلیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کسی کو غدار نہیں سمجھتی تاہم انہیں بھی اپنے طرز سیاست کو تبدیل کرنا ہوگا اور نہ ہی ہم کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی حمایت کریں گے۔

شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ اُس نہج تک نہ پہنچیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو بلکہ بات چیت سے معاملات حل کریں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے دور میں کوئی ایسا کارنامہ انجام نہیں دیا کہ آپ کو یاد رکھا جائے، پیپلز پارٹی کے دور میں ملک میں آئین معرض وجود آیا، ملک کو ایٹمی ملک بنایا اور میزائل ٹیکنالوجی دی۔ جمہوریت کیلئے ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو سمیت کئی بڑی قربانیاں پیپلز پارٹی نے دیں۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عمران کے دور میں نہ کوئی بڑا کارنامہ انجام پایا نہ کوئی جمہوریت کیلئے خدمت بلکہ ہمیشہ سیاستدانوں پر ظلم کیا، آصف علی زرداری نے 12 سال جیل کاٹی مگر ایک لفظ ملک کے خلاف نہیں بولا، بے نظیر کی شہادت پر پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو الیکشن لڑنے کیلئے فنڈنگ اسرائیل و انڈیا نے کی، یہ میں نہیں ارشد شریف شہید نے کہا تھا، آپ نے قائد اعظم کی رہائش گاہ کو چھوڑا نہ ایدھی ایمبولینسز بخشا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ بھارتی میڈیا کسی صورت میں اس بحران سے نکلنے کیلئے آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا بلکہ اس سے معاملات مزید بڑھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن